خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 181
خطابات شوری جلد اول ۱۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء ہیں کہ اتنی بڑی رقم جو جمع ہوتی ہے ، جاتی کہاں ہے۔ حالانکہ خود انہوں نے کبھی اس میں حصہ نہیں لیا ہوتا اور اگر لیا ہوتا ہے تو نہایت ہی قلیل ۔ حضرت خلیفہ اول ایک شخص کے متعلق سنایا کرتے تھے کہ اس نے کہا مجھے بخاری لے دیں ۔ میں نے کہا کبھی لے دونگا، اِن دنوں تو میں غریب ہوں ۔ کہنے لگا آپ کس طرح غریب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت تین لاکھ کی جماعت ہے اگر ایک ایک روپیہ بھی ہر شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نذر دے تو چار آنے آپ کو بھی دیتا ہوگا اور اس طرح کئی ہزار کی آپ کو آمدنی ہے۔ اُسے میں نے جواب دیا تم ہی بتاؤ آج تک تم نے مجھے کتنی چونیاں دی ہیں؟ تو ایسے لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ لوگ جو دیتے ہیں ، ہمیں کیا ضرورت ہے کہ ہم بھی دیں حالانکہ جب تک ہر ایک شخص حصہ نہ لے ہم سلسلہ کے کاموں کو اس حد تک نہیں پہنچا سکتے جو موجودہ حالت میں ضروری ہے۔ اب یا تو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اخراجات کی مد میں ہی اُڑا دیں ۔ مگر کوئی ایسی مد نظر نہیں آتی جو اُڑائی جا سکے۔ کیا تبلیغ کا کام بند کر دیا جائے یا لنگر خانہ بند کر دیا جائے؟ کوئی صیغہ بھی ایسا نہیں کہ اُڑا دیا جائے اور پھر جماعت میں زندگی باقی رہ سکے ۔ مگر موجودہ حالات ایسے ہیں کہ ہم ان صیغوں کو چلا بھی نہیں سکتے ۔ آخر سوچو تو یہ بوجھ کس نے اُٹھانے ہیں؟ بے شک جماعت پر بار ہے مگر اس بار کے مقابلہ میں کچھ نہیں جو ہم پر یہاں پڑتا ہے۔ بسا اوقات دیکھا ہے جب بجٹ زیر غور ہو تو میں ساری ساری رات نہیں سو سکتا۔ چار پائی پر لیٹے ہوئے بھی یہی خیال آتا ہے کہ سب کاموں کا ذمہ دار اور خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ میں ہوں ۔ اسی ادھیڑ بن میں رات گزر جاتی ہے۔ پرسوں ہی ایک دوست نے کہا آپ کے بال سفید ہو گئے ہیں ۔ میں نے چاہا کہ کہوں آپ ہی کی خاطر سفید ہو گئے ہیں مگر پھر میں نے اپنے آپ کو روک لیا۔ تو یہ ممکن ہی نہیں کہ سلسلہ کا کاروبار چلانے کے لئے ہم آدمی رکھیں اور وہ اپنا خون خشک کئے بغیر کام چلا سکیں ۔ مگر یہ صورت دیر تک قائم نہیں رکھی جاسکتی ۔ افسوس ہے کہ جماعت کے لوگ جو بجٹ خود پیش کر کے گئے تھے اور جس کے متعلق ان کی رائے تھی کہ اس سے کم نہیں ہو سکتا ، میں نے اُس سے بھی کم کر دیا ، مگر پھر بھی اُنہوں نے اس کو پورا کرنے کی کوشش نہ کی ۔ اور بیت المال کی ہفتہ وار رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ آمد میں دن بدن کمی ہو رہی ہے ۔ میں اس کمی کو جائز کمی نہیں سمجھتا۔