خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 170

خطابات شوری جلد اول ۱۷۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء اس وقت جو نمائندے آئے آئے ہیں وہ بعض مقامات کے لحاظ سے چار چار پانچ پانچ آدمیوں کے نمائندے ہیں اور ایسے نمائندے نہیں ہیں جو ہزاروں اور لاکھوں کی طرف سے ہوں مگر اس وجہ سے اس مجلس کی اہمیت کو گرانا نہیں چاہئے کیونکہ جو فیصلے ہم آج کریں گے وہ ساری دنیا پر اثر ڈالیں گے بلکہ ساری دنیا پر بھی ایک زمانہ میں اثر نہیں ڈالیں گے بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک اثر کرنیوالے ہیں۔ جس طرح صحابہ کی محدود جماعت کے فیصلے آج تک اثر ڈالتے ہیں اور وہ تو الگ رہے امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام حنبل، امام شافعی کے فیصلے بھی چلے آتے ہیں حتی کہ ان کو اس قدر وقعت دے دی گئی ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے جو نبی کھڑا ہوا اُس کے آگے بھی ان اماموں کی کتابیں لاکر رکھیں حالانکہ خدا تعالیٰ سے وحی پانے والے کے مقابلہ میں انسانی آراء کیا وقعت رکھ سکتی ہیں ۔ مگر بوجہ اس کے کہ وہ لوگ پہلوں میں سے تھے اُن کے فیصلوں اور تحریروں کو مقابلہ میں پیش کیا گیا حالانکہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ ہوتے تو آپ کے آگے زانوئے شاگردی طے کرتے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کھڑا ہوا تھا۔ جس مقام کو آج ہمارے مخالفین ذلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ حتی کہ جس فعل کی وجہ سے ہمارا قتل جائز سمجھتے ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت۔ اس وقت اگر وہ ائمہ ہوتے جن کے فتوؤں کی بناء پر ہمیں واجب القتل ٹھم ٹھہرایا جاتا ہے تو سب سے بڑھ کر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت کرتے اور آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دینا خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دینا سمجھتے کیونکہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اُن کا ہاتھ خدا ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ پس ان پہلوں کو جو رتبہ اور احترام بعد میں آنے والے لوگوں میں حاصل ہوا یہی آپ کا ہونے والا ہے۔ جس طرح مسلمان آج یہ نہیں کہہ سکتے کہ حضرت ابو ہریرہ نے فلاں فعل غلط کیا یا حضرت ابوبکر یا حضرت عمر یا حضرت عثمان یا حضرت علیؓ نے فلاں بات غلط کہی اور اگر اُن کی کوئی غلطی بتائی بھی جاتی ہے تو اس پر کئی طرح کے پردے ڈال کر۔ اسی طرح اور بعینہ اسی طرح ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کہ آپ میں سے بہتوں کا یہی ادب اور یہی احترام کیا جائے گا۔ اُس وقت بڑے بڑے حاکموں کی قدر نہ ہوگی کہ یہ کہہ سکیں