خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 150
خطابات شوری جلد اول ۱۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء ذوالفقار علی خان کے ذمے۔ جتنا روپیہ ان کے ذمہ تھا وہ ادا کر چکے ہیں لیکن اگر ہوتا بھی تو کیا یہ کوئی جرم ہے اور اسے خیانت قرار دیا جاسکتا ہے؟ جتنے ناظر ہیں ان کے ذمہ تو بورڈنگ کا کوئی بقایا نہیں ۔ البتہ اور کم از کم تین سو ایسے احمدی ہیں جن کے ذمہ بقایا ہے۔ جن کی فہرست مفتی محمد صادق صاحب پڑھنے لگے تھے مگر انہیں روک دیا گیا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کیا ناظر امور عامہ کے لئے مالی تنگی نہیں ہو سکتی ؟ اگر ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے تو پھر ان کے ذمہ بقایا ہوتا تو کیا حرج ہوتا ۔ پھر کئی لڑکے بیت المال سے وظیفے لے کر پڑھتے ہیں۔ اگر سلسلہ کے وہ کارکن جن کی تنخواہیں تھوڑی ہیں ، اُن کے لڑکوں کی پڑھائی کے لئے کچھ خرچ کرنا پڑے تو کیا حرج ہے۔ صرف زکوۃ کے متعلق فتنہ انگیز سوال ایک خطرناک سوال جو جماعت میں تفرقہ پیدا کرنے والا ہے یہ کیا گیا ہے کہ کیا زکوۃ کا روپیہ صرف قادیان کے غریبوں پر ہی خرچ ہوتا ہے یا جو احمدی غریب باہر رہتے ہیں اُن کو بھی کچھ دیا جاتا ہے؟ میں پوچھتا ہوں کیا غرباء یہاں پیدا ہوتے ہیں یا باہر سے آتے ہیں؟ کیا وہ افغان جن پر آجکل کابل میں ظلم وستم ہو رہے ہیں وہ قادیان میں پیدا ہوئے؟ کیا سماٹرا کے جو طالبعلم تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ یہاں کے ہیں؟ اگر باہر کے ہیں تو کیا اس وجہ سے کہ نعوذ باللہ وہ اپنی بدقسمتی سے خدا تعالیٰ کی اس مقدس سر زمین میں آ گئے ۔ اُنہیں بھو کے مار دینا چاہئے؟ کیا بنگال ، مدراس اور پنجاب کے مختلف مقامات کے غریب اور نادار لوگ جو یہاں آتے ہیں، اِس لئے زکوۃ سے کچھ لینے کے مستحق نہیں رہتے کہ وہ یہاں آ جاتے ہیں؟ جن لوگوں پر اس قسم کے اخراجات کئے جاتے ہیں ان کی لسٹیں دفاتر میں موجود ہیں ان کو پڑھو اور دیکھو کہ وہ یہاں کے باشندے ہیں یا باہر کے۔ کہا گیا ہے کہ کیا باہر کی احمد یہ جماعتوں کے امیروں اور سیکرٹریوں کو کبھی لکھا گیا ہے کہ ایسے احمدیوں کی فہرست بھیجو جو زکوة لینے کے مستحق ہوں؟ میں کہتا ہوں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ قادیان کی گلیوں میں تو غریب اور نادار احمدی بُھو کے مرتے رہیں اور خدا تعالیٰ کے مسیح کی دیواروں کے ساتھ بیوائیں اور یتیم بھوک کے مارے سر ٹکراتے رہیں لیکن ہم چٹھیاں لاہور، فیروز پور اور راولپنڈی لکھتے رہیں کہ وہاں کے غرباء کی فہرستیں بنا کر بھیجو۔ کیا یہ قادیان اور غیر قادیان کا