خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 135
خطابات شوری جلد اول الله مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء ہیں کہ غلطی سے زیادہ محفوظ کون ہے؟ اجتہادی اور سیاسی غلطیاں تو رسول سے بھی ہو سکتی ہیں پھر خلیفہ ایسی غلطیوں سے کس طرح بچ سکتا ہے۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہو سکتا ہے کہ دو شخص میر ۔ میرے پاس لڑتے تے ہوئے آئیں ۔ اُن میں سے ایک لسان ہو اور میں اُس کے حق میں فیصلہ کر دوں لیکن اگر فی الواقعہ اس کا حق نہیں تو وہ یہ نہ سمجھے کہ میرے دلانے سے اس کے لئے جائز ہو گیا ایسی حالت میں اگر وہ لے گا تو آگ کا ٹکڑا لے گائے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرار کیا ہے کہ ممکن ہے آپ ایک فیصلہ کریں اور وہ غلط ہو ۔ ایک شخص کو کچھ دلائیں مگر وہ اس کا حق نہ ہو لیکن باوجود اس کے قرآن کریم کہتا ہے۔ فَلا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا میری ہی ذات کی قسم ، ان میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے تمام جھگڑوں کا تجھ سے فیصلہ نہ کرائے اور پھر جو تو فیصلہ کرے گو یہ ممکن ہے کہ تو غلط کرے یا درست کرے۔ مگر کچھ ہو ، انتظام کی درستی اور قیام امن کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کے متعلق دلوں میں تنگی نہ ہو اور پھر اس فیصلہ پر عمل بھی کریں۔ پر یہ وہ معاملات ہیں جن میں نبوت کا تعلق نہیں ہے۔ اگر نبوت کا تعلق ہوتا تو پھر ان میں بھی غلطی کا امکان نہ ہوتا۔ خلفاء اور نبی کی وراثت نبی اجتہاد کی غلطی کرتا ہے۔ بحیثیت فقیہ غلطی کر سکتا ہے۔ بحیثیت با دشاہ غلطی کر سکتا ہے لیکن بحیثیت نبی غلطی نہیں کر سکتا اور وہ باتیں جو نبی سے بحیثیت فقیہہ اور بحیثیت حاکم تعلق رکھتی ہیں، خلفاء ان میں نبی کے وارث ہوتے ہیں۔ خلفاء نبی کی ہر بات کے وارث ہوتے ہیں سوائے نبوت کے اور جو احکام نبوت کے سوا نبی کے لئے جاری ہوتے ہیں وہی خلیفہ کے لئے جاری ہوتے ہیں۔ اگر نبی ان مسائل میں غلطی کر سکتا ہے تو خلیفہ بھی کر سکتا ہے۔ اور یہ آیت کہ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا نِي انْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيما ۔ رسول کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان حاکم اور گورنر کے لئے بھی ہے اور اس کے ماتحت عمل کئے بغیر دنیا کا کام