خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 120

خطابات شوری جلد اول ۱۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۲۵ء پس تم لوگ اظہار رائے کے وقت خشیت اللہ اور خدا تعالیٰ کی رضا ہماری ذمہ داریاں کو مد نظر رکھو کیونکہ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی دین کے حق میں بڑی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور ہمارے قدم کی ذرا سی لغزش اس قدر نقصان پہنچا سکتی ہے جو صدیوں میں بھی دور نہ ہو سکے۔ امام ابو حنیفہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ بارش ہو رہی تھی ۔ ایک بچہ دوڑتا پھرتا تھا۔ اُنہوں نے اس بچہ سے کہا بچے سنبھل کر چلو، گر نہ جانا ۔ معلوم ہوتا ہے وہ بڑا ہوشیا راور ذ کی لڑکا تھا۔ اُس نے کہا اگر میں گرا تو اپنے کپڑے جھاڑ کر پھر کھڑا ہو جاؤں گا۔ آپ سنبھل کر چلئے کیونکہ اگر آپ گر گئے تو بہت سے لوگ تباہ ہو جائیں گے ۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں مجھ پر کبھی کسی نصیحت کا اتنا اثر نہیں ہوا جتنا اس اس لڑکے کے یہ کہنے سے ہوا۔ میں نے سمجھا کہ جو لوگ مجھ پر اعتقاد رکھتے ہیں اگر میں ٹھوکر کھا گیا تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔ ہماری باتوں کے اثر کی وسعت پس ہم لوگ جو جمع ہوئے ہیں ہماری باتوں کا اثر لاکھوں، کروڑوں انسانوں تک بھی نہیں کہہ سکتے کہ پہنچے گا بلکہ ان سے بھی زیادہ لوگوں تک پہنچے گا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دُنیا میں ہماری جماعت کس قدر پھیلے گی ۔ جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے قدر ۔ کے اتنی پھیلے گی کہ دیگر مذاہب والے چوہڑوں چماروں کی طرح رہ جائیں گے۔ اسی طرح جب ہماری جماعت کی کئی نسلیں ہوں گی تو خیال کر لو کتنے لوگوں تک ہماری باتوں کا اثر پہنچے اہتا ہوں ۔ - گا ۔ پس تم لوگ ہر بات میں خشیت اللہ کو مد نظر رکھو ۔ ایک نصیحت تو میں یہ کرنا چاہتا قربانیوں کا زمانہ اور دوسری یہ ہے کہ اب زمانہ غفلت اور لحاظ کا زمانہ نہیں ہے بلکہ قربانی کا زمانہ ہے۔ مالی قربانی کا بھی اور جانی قربانی کا بھی۔ میں نے سلسلہ کے متعلق بہت غور کیا ہے اور برابر کئی ماہ سے خاص طور پر غور کر رہا ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے۔ جو قلبی کیفیت میری ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا ، اگر مجھے خدا تعالیٰ مشکلات کا ہجوم پر یقین نہ ہوتا، اگر حضر میں موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں نہ ہوتیں اور میں نے اُن کے نتائج نہ دیکھے ہوتے تو جو مشکلات اور مصائب مجھے نظر آتے