خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 101
خطابات شوری جلد اول ۱۰۱ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء اخلاقاً دقتیں ہوں گی ۔ ہاں اگر کوئی عالم صاحب کچھ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں وہ تجویز یہ ہے۔ خلیفہ وقت سلسلہ کے اموال کو ہلا مجلس شوری سے مشورہ لینے کے اپنی ذاتی ضروریات پر خرچ نہیں کر سکتا ۔ یعنی کوئی رقم ماہوار یا یکمشت اپنی ضروریات کے لئے نہیں لے سکتا جب تک مجلس شوری کی کثرت رائے اس امر پر اپنی رضا ظاہر نہ کرے لیکن گو اس وقت تک خلفاء، خلافت کے کام کے بدلہ میں کوئی گزارہ نہیں لیتے ہو سکتا ہے کہ آئندہ اس کا بھی انتظام کرنا پڑے۔ اور بعض خلفاء ایسے ہوں جو بلا کسی ایسے انتظام کے گزارہ نہ کرسکیں اس لئے یہ ضروری ہوگا کہ ہر نئے خلیفہ کے متعلق مجلس شوری فیصلہ کرے کہ اُس کو اس قدر رقم گزارہ کے طور پر ملے گی ۔ کسی خلیفہ کو جائز نہیں ہو گا کہ شوری کے اس فیصلہ کو توڑے کیونکہ سابقین کا کا یہی طریق رہا ہے۔ اور خلیفہ کا اپنے نفس کے متعلق اس قید کو قبول کرنا حسن انتظام کے لئے ضروری ہے۔ ہاں مجلس شوری کو یہ جائز نہ ہوگا کہ بعد میں کبھی اُس رقم میں جو مقرر کر چکی ہے کمی کرے۔ مگر خلفاء اپنی وسعت ادائیگی کے مطابق حسب سنت خلفائے سا خلفائے راشدین قرض بیت المال سے لے سکتے ہیں ۔“ اس کے بعد حضور کی اجازت کے مطابق دو بزرگ علمائے سلسلہ نے اس تجویز کے بارہ میں اپنی آراء پیش کیں ۔ اُنہیں سننے کے بعد حضور نے فرمایا:۔ ت ابو بکر خلیفہ مقرر اس تجویز کی بناء کیا ہے ” اس تجویز کی بناء یہ ہے کہ جب حضرت ابو با ہوئے تو دوسرے تیسرے دن کسبِ معاش کے لئے نکلے۔ صحابہ نے کہا کہ اس اِس صورت میں آپ خلافت کس طرح کریں گے؟ اُنہوں نے کہا پھر گزارہ کس طرح کروں؟ صحابہ نے مشورہ کیا اور ایک رقم اُن کے لئے مقرر کر دی۔ حضرت عمر کے زمانے میں بھی اسی طرح ہوا کہ مشورہ سے اُن کے لئے رقم مقرر کی گئی لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب مال کثرت سے آئے اور چیزیں گراں ہو گئیں ادھر اہل و عیال بڑھنے لگے تو بعض صحابہؓ نے محسوس کیا کہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے۔ ایک نے دوسرے سے ذکر کیا کہ حضرت عمر کا گزارہ تنگ ہے، کچھ انتظام کرنا چاہئے ۔ دوسرے نے کہا وہ خود تو نہیں کہتے ۔ اُس نے کہا وہ کبھی بھی نہیں کہیں گے ۔ اس لئے مشورہ ہوا اور حضرت حفصہ سے ذکر کیا کہ چونکہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے اس لئے ہم نے یہ تجویز کی ہے مگر ہم اُن سے ذکر