خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 387
۳۸۳ حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی۔کیونکہ اگر ہماری خلافت ابو بکر اور عمر کی خلافت سے کچھ اختلاف رکھتی ہے تو حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کی نبوت بھی پہلے نبیوں سے کچھ اختلاف رکھتی ہے۔پس اگر ہماری خلافت اس آیت کے ماتحت نہیں آتی تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کی نبوت بھی اس آیت کے ماتحت نہیں آتی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ الصلوۃ والسلام اس نبوت کو با وجود مختلف ہونے کے اسی آیت کے ماتحت قرار دیتے ہیں۔پس جس طرح حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کی نبوت پہلی نبوتوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے۔اسی طرح یہ خلافت با وجود پہلی خلافتوں 66 سے ایک اختلاف رکھنے کے اس آیت کے وعدہ میں شامل ہے۔“ (خلافت راشدہ، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۷،۵۶۶) جس طرح رسول کریم ﷺ پہلوں سے افضل تھے، آپ کی خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔“ خلافت را شده، انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۶۲) خاتم الخلفاء کا منصب اس <mark>حق</mark>یقت و معرفت کا عکاس ہے کہ نہ صرف امت میں روحانی خلفاء کے آپ خاتم ہیں بلکہ تمام امتوں کے خلفاء سے بھی افضل ہیں اور خلافت کا بلند ترین تصور آپ کی ذات پر ختم ہے ، آپ کا مقام اس منصب کی معراج ہے۔اس کی تائید میں حضرت امام عبد الرزاق قاشانی رحمۃ اللہ <mark>علی</mark>ہ نے اپنی کتاب شرح فصوص الحکم میں مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام کے بارہ میں حضرت سید عبد القادر جیلانی " کا قول درج کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: " الْمَهْدِيُّ الَّذِي يَجِيُّ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فَإِنَّهُ يَكُوْنُ فِي الْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ تَابِعاً لِمُحَمَّدٍ ﷺ وَفِي الْمَعَارِفِ