خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 567
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم <mark>خلیفہ</mark> ایسا ہو کہ اس کی ذاتی آمدنی اتنی قلیل ہو کہ اس کام کا چلانا اس کے لئے دوبھر ہو تو ایک سال تک اس مد کے جاری رہنے سے سنت پڑ گئی ہے اور اگر آئندہ خلفاء کے لئے اس بارہ میں کوئی عار ہو سکتی تھی تو وہ ٹوٹ گئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم سے کم میرے لئے اس کا لینا بہت گراں گزرتا ہے اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ اس مد کو نکال دیا جائے۔صرف سلسلہ کے ایسے لوگوں کی امداد کے لئے جو پرانے خادم ہیں کچھ رقم ضرور ہونی چاہئے کیونکہ ایسے مواقع پیش آ جاتے ہیں جب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی دلجوئی کے لئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کچھ مدد کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس غرض کے لئے صرف تین ہزار کی رقم اس سال کے لئے رہنے دی جائے۔باقی موٹر کے متعلق فنانس کمیٹی کے اصرار پر پچھلے سال جو فیصلہ کیا گیا تھا بعد میں غور کرنے پر میں نے سمجھا کہ وہ غلط طریق ہے۔در حقیقت ہونا یہ چاہئے کہ موٹر جب خریدا جائے تو اس کے لئے بجٹ میں گنجائش رکھی جائے اور جب پرانا موٹر بیچا جائے تو اس کی قیمت آمد میں شمار کی جائے۔یہ جو فیصلہ کیا گیا تھا کہ موٹر کی خرید کے لئے قرضہ لے لیا جائے اور ہر سال تین ہزار روپیہ اس قرض میں واپس کیا جائے بعد میں میں نے سمجھا کہ یہ طریق درست نہیں۔گزشتہ سال کے بجٹ میں سے صرف تین ہزار روپیہ موٹر کی خرید کے لئے لیا گیا تھا اور باقی روپیہ قرض لے لیا گیا تھا۔موٹر کے متعلق جیسا کہ چوہدری عبد اللہ خاں صاحب نے کہا تھا یہ ضروری تھا کہ ایسا موٹر خریدا جاتا جو زیادہ محفوظ ہوتا۔ان کا اندازہ بائیس ہزار روپیہ کا تھا مگر ہم نے سترہ ہزار میں موٹر خریدا۔تین ہزار موٹر کی مد میں سے نکال کر دیا گیا۔چھ ہزار بجٹ میں خرید موٹر کی قسط کے طور پر موجود تھا اور آٹھ ہزار امانت سے قرض لے کر ادا کر دیا گیا۔میری تجویز یہ ہے کہ موٹر کی خرید کے لئے جو رقم قرض لے کر خرچ کی گئی ہے اس کو موجودہ بجٹ سے ادا کر دیا جائے۔آئندہ جب تک یہ موٹر رہے رہے جب نیا موٹر خریدنے کی ضرورت محسوس ہو تو اسے بیچ کر جو روپیہ حاصل ہو وہ آمد میں ڈال دیا۔جائے اور جتنے روپیہ کی مزید ضرورت محسوس ہو اتنا روپیہ نئے موٹر کے لئے بجٹ میں رکھا جائے۔باقی موٹر کے جو ماہوار اخراجات ہیں مثلاً ڈرائیور کی تنخواہ ہے ، مرمت ہے، پٹرول ہے، ٹیکس ہے ، ان چیزوں کا بجٹ مناسب طور پر سب کمیٹی تجویز کر سکتی ہے مگر بہر حال یہ بجٹ