خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد اول) — Page 463
<mark>خلافة</mark> على منهاج النبوة ۴۶۳ جلد اول احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجریں حضرت حاجی <mark>مولوی</mark> حکیم نورالدین <mark>صاحب</mark> جو ہم سب میں سے اعلم اور اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اُسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت <mark>مولوی</mark> <mark>صاحب</mark> موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔یہ اعلان جماعت کے بہت سے سر بر آوردہ لوگوں کی طرف سے فرداً فردا ہر ایک کے دستخط کے ساتھ ہوا تھا جن میں سے <mark>مولوی</mark> <mark>محمد</mark> علی <mark>صاحب</mark> بھی تھے۔) یہ تحریر جو ۲ / جون ۱۹۰۸ء کے بدر میں بغرضِ اعلان شائع کی گئی تھی ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت <mark>خلیفہ</mark> المسیح الاوّل کی خدمت میں بطور درخواست پیش کی گئی تھی اور پھر حضرت ممدوح کی بیعت خلافت ہو چکنے کے بعد اخبار بدر کے پرچہ مذکورہ بالا میں ہی جناب خواجہ کمال الدین <mark>صاحب</mark> نے بحیثیت سیکرٹری صدرانجمن احمد یہ اس بارہ میں حسب ذیل اعلان شائع کیا تھا۔در حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے سے پہلے وصا یا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق۔۔۔۔۔جناب حکیم نور الدین <mark>صاحب</mark> سلمہ کو آپ کا جانشین اور <mark>خلیفہ</mark> قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ خط بطور اطلاع گل سلسلہ کے ممبران کولکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامۃ خلیفۃ المسیح والمہدی کی خدمت با برکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔“ اب کوئی نئی وصیت تو ان کے ہاتھ میں آئی نہ تھی کہ جس کی بناء پر وہ خلافت کو ناجائز مجھنے لگے تھے۔پس حق یہی ہے کہ ان کو خیال تھا کہ خلافت کے لئے جماعت کی نظر کسی اور شخص پر پڑ رہی ہے۔