خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 660

خطابات نور — Page 93

م<mark>جا</mark>ہدہ صحیحہ کی۔پھر میں نے انسانی فطرت اور اس کی بناوٹ پر نظر کی ہے میں نے دیکھا ہے کہ انسان کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور کمزوریاں بھی ہیں۔کمزوریاں اس میں کیوں ہیں؟ اس لئے کہ مغفرت کی شان دکھاوے اور اس کو تکبر سے بچاوے۔ہر ایک شخص جس جس قدر اپنی کمزوریوں سے بچے گا اسی اسی قدر سکھ اور راحت اسے ملتا <mark>جا</mark>وے گا۔مثلاً ایک شخص عام قوانین صحت کی پابندی <mark>کر</mark>تا ہے اس لئے اس کے نتیجہ میں اسے اتنا سکھ ضرور ملے گا کہ اس کی حالت صحت اچھی ہو۔اگرچہ ممکن ہے کہ وہ ان اسباب اور ذرائع سے ناواقف ہو کہ کیوں اس کی صحت عمدہ ہے لیکن قانون الٰہی یہی ہے کہ وہ اس سے متمتع ہوگا اور فائدہ اٹھائے گا لیکن اس کے بالمقابل ایک شخص ہے خواہ وہ کیسا ہی عالم و فاضل ہو لیکن وہ قوانین حفظ صحت کو توڑتا ہے اس کا لازمی نتیجہ ہوگا کہ اس کی حالت صحت بگڑ <mark>جا</mark>ئے۔اس سے بڑھ <mark>کر</mark> ایک شخص خیانت، بدنظری، چوری، ڈاکہ زنی، قتل اور ان بدیوں سے جن کا تعلق عام لوگوں سے ہے اور اس کا اثر دوسری مخلوق پر پڑتا ہے بچتا ہے تو اس کو ایسے انداز کے موافق سکھ ملے گا اور اس کا دائرہ راحت وسیع ہو<mark>جا</mark>ئے گا لیکن ایک سستی <mark>کر</mark>تا ہے، اپنے کاروبار میں غفلت <mark>کر</mark>کے بنی نوع انسان کے حقوق تلف <mark>کر</mark>تا ہے۔قتل و غارت، چوری خیانت سے کام لیتا ہے اسی قدر اس کے دکھ کا میدان وسیع ہو<mark>جا</mark>ئے گا۔اپنے گھر میں حسن معاشرت سے کام لیتا ہے اس کو گھر کا سکھ حاصل ہوگا برخلاف <mark>عمل</mark> <mark>کر</mark>نے سے دکھ ملے گا۔غرض جس جس پہلو اور جس جس جگہ تک انسان قوانین فطرتیہ کی پابندی <mark>کر</mark>تا ہے اسی حد تک وہ سکھ پاتا ہے۔قرآن شریف انسان کو قوانین فطرتیہ پر عامل <mark>کر</mark>انا چاہتا ہے اور اس جوئے کے نیچے اس کو رکھنا چاہتا ہے جو بظاہر تکالیف اور پابندی کا جوا نظر آتا ہے لیکن اس کے ماتحت ہو<mark>کر</mark> سچی خوشحالی اور حقیقی آزادی نظر آتی ہے۔کوئی اس جوئے کو اپنی گردن پر رکھ لے اور پھر آزما <mark>کر</mark> دیکھ لے یہ کہنے کی بات نہیں۔ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ اس کے نمونے دنیا میں گزر چکے ہیں اور گزرتے رہتے ہیں اور اب بھی ایک کامل نمونہ ہم میں موجود ہے۔خوشی چاہتے ہو اور ضرور چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی سبیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی <mark>کر</mark>نے کی ف<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>و۔اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کی باتوں کو معلوم <mark>کر</mark>و۔وہ تمہیں قرآن شریف میں