خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 660

خطابات نور — Page 91

پتھر مارتے <mark>جا</mark>تے تھے اور آپ آگے آگے دوڑتے <mark>جا</mark>رہے تھے۔یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھاگے چلے آئے اور پتھروں سے آپ زخمی ہوگئے۔ان تکالیف اور مصائب کو آپ نے کیوں برداشت کیا؟ آپ خاموش ہو<mark>کر</mark> اپنی زندگی آرام سے گزار سکتے تھے پھر وہ بات کیا تھی جس نے آپ کو اس امر پر آمادہ <mark>کر</mark>دیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں لیکن امر الٰہی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرمائیں گے۔قرآن شریف سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے آپ کو حکم ہوا تھا (المائدۃ :۶۸) جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوق الٰہی کو پہنچا دے اور (الحجر:۹۵) جوتجھے حکم دیا <mark>جا</mark>تا ہے اس کو کھول کھول <mark>کر</mark> سنادے۔اس پاک حکم کی تعمیل آپ کا مقصود خاطر تھا اور اس کے لئے آپ ہر ایک آفت اور مصیبت کو بہزار <mark>جا</mark>ن برداشت <mark>کر</mark>نے کو آمادہ تھے۔پھر قرآن شریف کے تو تیس سیپارے ہیں اور ان میں ہزاروں ہزار مضامین ہیں جن کو پہنچانا آپ کا ہی کام تھا۔اگر اللہ تعالیٰ کی تائید شامل حال نہ ہو اور اس کی نصرت ساتھ نہ ہو تو پشت شکن امور پیش آ<mark>جا</mark>تے ہیں۔اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ ایک تو فّی کے امر کو پیش <mark>کر</mark>نے میں کس قدر دقتیں اندرونی اور بیرونی لوگوں کی طرف سے پیش آرہی ہیں اور کیا کیا منصو<mark>بے</mark> اور تجویزیں مخالفوں کی طرف سے آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔اور وہ شخص جو مسیح موعود کے نام سے آیا ہے اور اس پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے وہ بھی بالمقابل ان کی تکلیفوں اور اذیتوں کی کچھ پروا نہیں <mark>کر</mark>تا وہ تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا۔اس کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے اور اس مضمون کے پہنچانے میں کوئی سستی نہیں <mark>کر</mark>تا۔کوئی ذ<mark>کر</mark> ہو اندر ہو باہر ہو آخر اس کے کلام میں یہ بحث ضرور آ<mark>جا</mark>تی ہے اور پھر مخالفوں کی کوششیں ادھر اس کی مساعی جمیلہ اس پر دعائیں <mark>کر</mark>تا ہے۔کتابیں لکھتا ہے تقریریں <mark>کر</mark>تا ہے غرض کیا ہے؟ (اٰل عمران :۵۶) کے حقیقی معنے لوگوں کے ذہن نشین ہو<mark>جا</mark>ئیں کیوں؟ اس موت سے خدا تعالیٰ کی زندگی رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کی حیات اسلام کی زندگی اور قرآن <mark>کر</mark>یم کی زندگی ثابت ہوتی ہے اور یہ قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خدمت ہے۔غرض قرآن شریف وہ پاک اور مجید کتاب ہے جس کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم اور صحابہؓ کو وہ محنت <mark>کر</mark>نی پڑی اور آج اس زمانہ کے امام اور خاتم الخلفاء کو وہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔پھر اس سے اصل غرض یہی ہے کہ قرآن شریف کا حقیقی <mark>علم</mark> پیدا ہو اور اس پر <mark>عمل</mark> کیا <mark>جا</mark>ئے۔