خطابات نور — Page 78
ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر کوئی مشکل مقام نہ رہ <mark>جا</mark>ئے گا۔خدا تعالیٰ خود مدد کرے گا لیکن غرض ہو اپنی اصلاح اور خدا تعالیٰ کے دین کی تائید۔کوئی اور غرض درمیان نہ ہو۔بڑی ضرورت عملدارآمد کی ہے۔ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورئہ ھود نے مجھے بوڑھا کردیا ہے وہ کیا بات تھی جس نے آپ کو بوڑھا کردیا وہ یہ حکم تھا۔(ھود :۱۱۳) یعنی جب تک تو اور تیرے ساتھ والے تقویٰ میں قائم نہ ہوں وہ کامیابیاں نہیں دیکھ سکتے۔اس لئے تو سیدھا ہو<mark>جا</mark>جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح پر یاد رکھو کہ ہماری اورہمارے امام کی کامیابی ایک تبدیلی چاہتی ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستورالعمل بنائو۔نرے دعوے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔اس دعوے کا امتحان ضروری ہے جب تک امتحان نہ ہولے کوئی سرٹیفکیٹ کامیابی کا مل نہیں سکتا۔خیرالقرون کے لوگوں کو بھی یہی آواز آئی۔(العنکبوت :۳) کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر چھوڑ دئیے <mark>جا</mark>ویں گے کہ وہ ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ <mark>جا</mark>ویں۔ابتلائوں اور آزمائشوں کا آنا ضروری ہے۔بڑے بڑے زلزلے اور مصائب کے بادل آتے ہیں مگر یاد رکھو ان کی غرض تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا منشا اس سے استقامت اور سکینت کا عطا کرنا ہوتا ہے اور بڑے بڑے فضل اور انعام ہوتے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ جو لوگ کچے، غیر مستقل مزاج، کم قیمت اور منافق طبع ہوتے ہیں وہ الگ ہو<mark>جا</mark>تے ہیں صرف مخلص، وفادار، بلند خیال اور سچے مومن رہ <mark>جا</mark>تے ہیں جو ان ابتلائوں کے جنگلوں میں بھی امتحان اور بلاکی خاردار جھاڑیوں پر دوڑتے چلے <mark>جا</mark>تے ہیں۔وہ تکالیف اور مصائب ان کے ارادوں اور ہمتوں پر کوئی بُرا اثر نہیں ڈالتیں۔ان کو پست نہیں کرتیں بلکہ اور بھی تیز کردیتی ہیں۔وہ پہلے سے زیادہ تیز چلتے اور اس راہ میں شوق سے دوڑتے ہیں نتیجہ کیا ہوتا ہے وہ بلائیں، وہ تکالیف، وہ مصائب، وہ شدائد خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضل اورکرم اور رحمت کی صورت میں تبدیل ہو<mark>جا</mark>تی ہیں اور وہ کامیابی کے اعلیٰ معراج پر پہنچ <mark>جا</mark>تے ہیں۔اگر ابتلائوں کا تختہ مشق نہ ہو تو پھر کسی کامیابی کی کیا امید ہو۔دنیا میں بھی دیکھ لو ایک