خطابات نور — Page 559
سے خوف ور<mark>جا</mark>رکھو۔یہ دعوت ہے جو میں تمہاری <mark>کر</mark>نا چاہتا ہوں اگر ایک لقمہ بھی اس دعوت سے کھا لوتو پھر مجھ کو خط لکھو کہ تم کو اس سے نفع ہوا یا نقصان۔ایک مرتبہ ایک عورت نے علاج کے معاوضہ میں مجھ کو سکھوں کے زمانہ کا ایک پیسہ دیا۔میں نے سمجھا کہ یہ تو خدائے تعالیٰ نے دیا ہے۔میں نے کہا مولیٰ میں اس کو تیری راہ میں دے دوں تو اس کے سات سو پیسے بن <mark>جا</mark>ئیں۔میں نے وہ پیسہ بڑے ش<mark>کر</mark> کے ساتھ لے لیا پھر مجھ کو اللہ تعالیٰ نے لاکھوں روپیہ دیئے۔ش<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>و، سخاوت <mark>کر</mark>و۔یہ نعمت بڑھنے کا نسخہ ہے۔تم اللہ تعالیٰ کے بن <mark>جا</mark>ئو ، اللہ تعالیٰ تمہارا ہو گا۔ہمیشہ اپنے آپ کو جناب الہٰی کا محتاج سمجھو۔مخلوق کی تعریف کی پروا نہ <mark>کر</mark>و۔مخلوق ہستی ہی کیا رکھتی ہے ہم نے بچپن میں ایک کتاب پڑھی تھی اس میں لکھا ہے:من نمانم ایں بماند یادگار۔اب میں دیکھتا ہوں خدائے تعالیٰ نے اس کی بھی جڑ کاٹ دی کہ تم اس کویاد گار بناتے ہو۔یادگار ہوتی کیا ہے ؟ ہمارے کس قدر دوست حکیم ہیں، کس قدر ڈاکٹر ہیں۔سوئی کے ناکے کے برابر زخم ہے تین سال سے وہ اچھا نہیں ہوا۔مسلمانوں کو کبریائی اور تکبر نے بڑا نقصان پہنچایا ہے، ان کا رہ ہی کیا گیا ہے۔لایعنی باتوں پر بہت غور <mark>کر</mark>نا، فخر <mark>کر</mark>نا یہ سب غلطیاں ہیں۔دیکھو کسی کے ماں باپ کو <mark>بے</mark> ادبی کا کلمہ کہا <mark>جا</mark>ئے تو کس قدر جو ش آتا ہے مگر خدا ورسول کی <mark>بے</mark> ادبی ہوتی ہے، ان <mark>بے</mark> ادبوں کے سامنے ایسا غیظ و غضب تم کونہیں آتا۔تم میں ایک ایسا گروہ ہونا چاہئے جو نیکی کی طرف بلائے اور بدی سے روکے۔یہ بھی یاد رکھو بدظنی کا کوئی علاج نہیں۔ایک آدمی کے دل میں میری تقریر سن <mark>کر</mark> یہ خیال آئے کہ یہ ریا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے تم ہمارے اعمال کے اور ہم تمہارے اعمال کے ذمہ وار نہیں۔ہمارا یہ کام ہے کہ ہم بھلی بات تم کو بتادیں اور بتانے میں دھوکا نہ دیں۔تم بڑی دور سے آئے ہو ، ہمارے معتقدہو، بعض نہیں بھی ہیں۔میں تم سب کو یقین دلاتا ہوں کہ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ پر ایمان رکھو۔خدائے تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی پیارا محبوب نہ ہو لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کے حقیقی معنے ہی ہیں کہ بندہ ہرآن میں اللہ تعالیٰ کا اس قدر محتاج ہے کہ ان محتاجی کی چیزوں کو گِن بھی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ کو راضی <mark>کر</mark>و۔کتابوں میں قرآن شریف <mark>بے</mark> نظیر، پاک اور <mark>بے</mark> عیب کتاب ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وآلہ وسلم کی اتباع <mark>کر</mark>و اس کی اتباع میں یہ شان ہے کہ تم اللہ تعالی کے محبوب بن <mark>جا</mark>ئو گے۔قرآن شریف سیدھی سادی