خطابات نور — Page 556
جبراًلے <mark>جا</mark>ئوں گا۔خیر میں اس کے ساتھ اس کے آقا کے پاس چلا گیا۔وہاں بہت سی جلیبیاں رکھی تھیں اس امیر نے کہا کہ آپ ان کو کھائیں۔ہندوستان کاایک حلوائی آگیا ہے اس نے بنائی ہیں۔میں نے اس لئے آپ کو بلایا کہ آپ ہی ان کوخوب پہچان سکتے ہیں۔میں نے کہا نماز کا وقت ہے۔اس نے کہا میرا آدمی مسجد کے دروازے پر کھڑا رہے گا۔جس وقت تکبیر ہو گی وہ فوراًاطلاع دے دے گا آپ اطمینان سے کھانا شروع <mark>کر</mark>یں۔چنانچہ میں نے کھانی شروع کیں اور جب میں خوب سیر ہو چکا تو فوراًاس کے آدمی نے اطلاع دی کہ تکبیر اقامت ہو رہی ہے چنانچہ میں جلدی سے مسجد کو چلا گیا۔دوسرے دن پھر سامان کوئی نہ تھا۔تم یاد رکھو میں نے اس وقت تک کبھی کوئی نقدی گری ہوئی نہیں پائی۔میں تو فارغ آدمی تھا روٹی کا ف<mark>کر</mark> نہ تھا۔میں چٹائی جھاڑ <mark>کر</mark> بچھانے لگا۔چٹائی اٹھائی تو ایک اشرفی پڑی ہوئی نظر آئی۔میں نے کہا یہاں کسی دوسرے آدمی کی آمد ورفت ہے ہی نہیں۔میرا یہ مکان ہے۔میں اب کس سے پوچھوں کہ یہ اشرفی کس کی ہے۔پھر میری سمجھ میں آیا کہ رات میں نے جلیبیاں کھائی ہیں۔اب یہ اللہ تعالیٰ ہی نے بھجوائی ہے۔اللہ تعالیٰ دینے پر آئے تو اس طرح دے دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ:۲۸۳)۔تم تقویٰ اختیار <mark>کر</mark>و ہم <mark>علم</mark> دیں گے۔قرآن میں کوئی اشکال ہے ہی نہیں۔اگر اتفاق سے کوئی مشکل آپڑے تو اس کو خوشخط لکھ <mark>کر</mark> ایسی جگہ لٹکا دو کہ بار بارپیش نظرہوسکے اللہ تعالیٰ اس کا حل تمہارے دل میں ڈال دے گا۔یہ ایسا گُر ہے کہ ہر مشکل کے وقت تم کو مدد دے گا۔اگر یہ جھوٹی بات ہوتی تو میں تم کو سناتا ہی نہیں۔ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ بڑے بڑے عالم اعتراض <mark>کر</mark>تے ہیں۔میں نے کہا کہ وہ خود ہی ناقص ہیں قرآن <mark>کر</mark>یم کی مشکل کو اسی طرح حل <mark>کر</mark>و۔مگر یاد رکھو خدائے تعالیٰ کو آزمانے کے لئے نہیں بلکہ ضعیف ہو <mark>کر</mark>، محتاج ہو <mark>کر</mark>، فقیر ہو <mark>کر</mark> سائل بنو اور خدا تعالیٰ کاامتحان نہ <mark>کر</mark>و ورنہ وہ پرواہ نہیں <mark>کر</mark>ے گا۔ایک مرتبہ میں وزیر آباد کے اسٹیشن پر پہنچا۔وہاں ایک وکیل ملاجو اس طرف کارہنے والا تھا۔مجھ سے کہنے لگا کہ کیا قرآن پڑھنا بہت ہی ضروری ہے۔میں نے کہا ہاں۔کہا کہ ہم بچوں کی طرح قرآن پڑھیں۔ہم سے اب صرف ونحو نہیں پڑھی <mark>جا</mark>تی۔میں نے کہا کہ قرآن میں قَوَلَ نہیں پہلے ہی قال موجود ہے