خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 529 of 660

خطابات نور — Page 529

کی مرہم پٹی میں دیانت و امانت کے ساتھ خرچ ہوتا ہے۔دوم : یہ کہ ریا و سمعہ سے نہ ہو۔نہ تو اس سے طلب شہرت مقصود ہو۔جیسا کہ میں آج کل یہ مرض پھیلا ہوا دیکھتا ہوں اور نہ اس میں کوئی اور ذاتی غرض ہو۔سوم کے جواب میں (البقرۃ:۲۲۰)فرمایا یعنی اپنی حا<mark>جا</mark>ت سے زیادہ۔دیکھو! میں نے ابھی سنا ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے بہت سے بورڈ ر اس <mark>جا</mark>ڑے کے موسم میں رات کو بغیر لحاف و توشک کے سوتے ہیں۔تمہارا خیال ترکی چندہ تک تو <mark>جا</mark>پہنچا مگر گھر کی خبر نہیں۔ان کے لئے تم نے کیا انتظا م کیا ؟ ان کے منتظم سے میں نے پوچھا اس نے کوئی معقول جواب نہیں دیا۔یہ کہا کہ صدر انجمن کی طرف سے جواب ملا گن<mark>جا</mark>ئش نہیں۔اجی گن<mark>جا</mark>ئش نہیں تو کیا تم نے چندہ کی فہرست کھولی۔اگر تم کچھ نہیں کر سکتے تو پھر ان کو یہاں قید کیوں کر رکھا ہے۔ملک خدا تنگ نیست۔میں تو طالب علم کو روٹی کھلا دینا،بستر کا انتظام کر دینا سب سے ضروری سمجھتا ہوں۔تم نے اس سے کوتاہی کی۔اسی طرح سلسلہ کی ضرورتیں ہیں۔اور یہ جو قربانیوں کی نسبت کہتے ہیں۔قربانی چھوڑنا ہر گز <mark>جا</mark>ئز نہیں۔یہ لوگ قسطنطنیہ سے ہی فتویٰ منگا دیکھیں کیونکہ حالت تو وہاں کی نازک بیان کی <mark>جا</mark>تی ہے۔سب سے پہلے قربانیاں ان کو چھوڑنی چاہئیں۔پھر مکہ معظمہ میں کئی لاکھ قربانیاں ہوتی ہیں۔پہلے وہ قربانیاں موقوف کراتے۔مصر ہی سے فتویٰ منگاتے۔ہم نے تو ترکی چندے کے متعلق مصر بھی خط لکھا مگر اس کا تشفی بخش جواب نہ آیا۔دیکھو تم ایسی ایسی باتوں پر اختلاف نہ کیا کرو۔میں ترکی چندے کا ہر گز مخالف نہیں البتہ یہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہاں جو غریب ہیں رات کو اوڑھنے کے لئے بھی نہیں رکھتے اور ہمارے پاس زخمی بھی آ<mark>جا</mark>تے ہیں۔دیکھو۔ابھی کل مولوی محمد علی کے ایک آدمی کو زخم لگاہے۔ان کے لئے تو تمہیں جوش نہیں آتا اور وہاں کے لئے جوش ہے۔کیا اس میں کوئی ریاوسمعہ تو نہیں۔یہاں تو ذات الریہ سے مر <mark>جا</mark>ئیں تمہیں فکر نہ ہو۔اور ایسی جگہ کے لئے جہاں چندہ پہنچنے کا یقین بھی نہیں تم مجھ سے استفتاء کرتے ہو۔یہاں کی ضرورتوں اور یہاں کے مجروحوں کے لئے تمہاری جیبوں میں کچھ نہیں مگر باہر کے لئے ہے۔مجھے تمہارے اختلافوں کی خبر سن کر بہت دکھ پہنچتا ہے اور جب تم اس میں حد سے بڑھنے لگتے ہو تو مجھے الزام دیتے ہو کہ میں قول فیصل نہیں دیتا۔حالانکہ میں حق کہنے سے نہیں ڈرتااور