خطابات نور — Page 513
اور پھر وہ ایک دو سال کا ہوتا ہے تو لوگ مبارک باد دیتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوگیا مگر غور <mark>کر</mark>و تو دو سال اس کی عمر سے کم ہوگئے اور دن بدن وہ گھٹتا <mark>جا</mark>تا ہے۔انسان گویابرف کا سوداگر ہے ہر لحظہ اس کو کم <mark>کر</mark>رہا ہے اسی طرح پر انسان کی عمر گھٹتی چلی <mark>جا</mark>تی ہے تو اب سوال ہوتا ہے کہ کیا اس کی تلافی کا بھی کوئی انتظام ہے؟ خواہ عصر کے کچھ ہی معنے <mark>کر</mark>و۔یہاں بتایا ہے کہ اس کی تلافی کی صورت ہے وہ کیا؟ (العصر:۴) کچھ لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچائے <mark>جا</mark>تے ہیں وہ کون ہیں جو مومن اور اعمال صالحہ <mark>کر</mark>نے والے ہیں۔اب اگر عصر کے معنی زمانہ کے <mark>کر</mark>و تو اس سے یہ مراد ہے کہ حضرت نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کے زمانہ کو عصر سے تشبیہ دی ہے کیونکہ پہلے تو ایک نبی آتا تھا اور شریعت لاتا تھا اور نئی راہیں خدا کی رضامندی کی ظاہر ہوتی تھیں مگر اب تو عصر کا وقت ہے پھر سورج غروب ہوگا۔آپؐ <mark>جا</mark>مع کمالات نبوت ، <mark>جا</mark>مع کمالات انسانیت اور خاتم کمالات نبوت اور خاتم کمالات انسانیت تھے پھر عصر کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ نچوڑنے سے مصفّٰی چیز الگ ہو<mark>جا</mark>تی ہے اور اس کا ردی حصہ تہ نشین ہو<mark>جا</mark>تا ہے۔آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم جو شریعت لائے وہ خالص اور تمام صداقتوں کا نچوڑ ہے۔دنیا میں کثرت سے انبیاء آئے ہیں۔۔(المؤمن:۷۹)۔پھر جو آئے ہیں تو کچھ معلوم نہیں کہ ان کی کتابیں محفوظ ہیں یا نہیں۔پھر وہ کتابیں کمی بیشی، تغیر و تبدل سے پاک ہیں یا نہیں؟غرض بیسیوں شبہات وارد ہوتے ہیں۔پھر انسانی تاریخ کا پتا نہیں۔عیسائی تو پانچ چھ ہزار برس سے پرے کچھ <mark>کر</mark>نے نہیں دیتے۔حد سات ہزار برس بتاتے ہیں۔آریوں نے چارارب کے اند رخدا کی بادشاہی کو محدود کیا ہے۔زرتشت کے اتباع نے مہاں سنکھ کے آگے سترہ صفر بڑھادئیے ہیں۔مگر ہمارے مولا کے خالق، مالک، حی ّ، قیوم اور رازق ہونے کے لئے کسی وقت کی حد بست <mark>کر</mark>نا سخت جہالت ہے۔اس لئے ہماری مقدس کتاب قرآن <mark>کر</mark>یم نے کوئی تاریخ نہیں دی۔پھر نچوڑنے کے معنوں کو مد نظر رکھ <mark>کر</mark> فرمایا۔(البینۃ:۴) تمام صداقتوں کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔کوئی صداقت اس پاک کتاب سے باہر نہیں۔ہم نے مختلف