خطابات نور — Page 479
کیا کفر کا لفظ بھیانک معنے رکھتا ہے اور کفر بمعنے انکار نہیں؟ اگر کہو کہ لاہور کے لوگ خلافت میں روک ہیں تو میرے مخلص دوستوں پر بدظنی ہوتی ہے اسے چھوڑ دو جو شخص کسی پر بدظنی <mark>کر</mark>تا ہے وہ نہیں مرتا جب تک اس میں مبتلا نہ ہو۔میں سنتا ہوں تم آپس میں اختلاف <mark>کر</mark>تے ہو۔اختلاف انسان کی فطرت میں ہے یہ ہٹ نہیں سکتا مگر اس کو شغل نہ بنائو۔جس امر پر اللہ تعالیٰ نے تم کو جمع <mark>کر</mark> دیا ہے اس وحدت کے مرکز کو نہ چھوڑو۔کبھی کبھی مجھے ان حالتوں کو دیکھ <mark>کر</mark> بددعا کا جوش آتا ہے مگر پھر رحم سے کام لیتا ہوں۔توبہ <mark>کر</mark> لو۔ہماری زندگی میں چھوڑ دو۔تھوڑے دن صبر <mark>کر</mark>و۔پھر جو پیچھے آئے گا اللہ تعالیٰ جیسا چاہے گا وہ تم سے معاملہ <mark>کر</mark>ے گا۔سنو! تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے <mark>کر</mark> دیا ہے جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف <mark>کر</mark>تا ہے وہ احمدی نہیں جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی۔ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں جب تک ہمارے دربار سے تم کو ا<mark>جا</mark>زت نہ ملے۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا ان پر رائے زنی نہ <mark>کر</mark>و۔جن پر ہمارے امام اور مقتدا نے قلم نہیں اٹھایا تم ان پر جرات نہ <mark>کر</mark>و۔ورنہ تمہاری تحریریں اور کاغذ ردی <mark>کر</mark> دیں گے۔تم میں سے کوئی تصنیف <mark>کر</mark>تا ہے اور اگر کہو کہ تمہارا قلم نہیں لکھ سکتا تو کیا ہم بھی نہ لکھیں تو نورالدین، تصدیق، فصل الخطاب، ابطال الوہیت مسیح کو پڑھو۔مجھے لکھنا آتا ہے اور خوب آتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی ایک مصلحت نے روک رکھا ہے اور ہاں خدا نے روکا ہے۔اب بھی تمہارے رسائل میں غلطیاں ہوتی ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں غلطیاں ہوتی ہیں مگر خدا نے چاہا ہے کہ خاموش رہوں۔تم کیا ہستی رکھتے ہو کہ جو نہ میرے دربار سے ا<mark>جا</mark>زت ہوتی ہے نہ خدا کی طرف سے تمہیں امر ہوتا ہے اور تم جرات <mark>کر</mark>تے ہو۔دیکھو یاد رکھو! تمہاری کوئی جماعت نہ بنے گی تم لکھ رکھو کوئی ایسی جماعت نہ بنا سکو گے۔پس میری بات کو یاد رکھو اور بدظنی چھوڑ دو۔تفرقہ نہ <mark>کر</mark>و۔حضرت صاحب نے جو فیصلہ جس امر میں <mark>کر</mark> دیا ہے اس کے خلاف نہ کہو نہ <mark>کر</mark>و۔ورنہ احمدی نہ رہو گے۔یہ خیال چھوڑ دو کہ لاہور