خطابات نور — Page 43
ایمان والو!متقی بن <mark>جا</mark>ؤ۔متقی بننے کی تدبیر یہ ہے کہ صادقوںکے ساتھ ہو <mark>جا</mark>ؤ۔یہی ایک گُر ہے معزز بننے کا،قوم بننے کا یعنی متقی بن <mark>جا</mark>نااور متقی بننے کے لیے صادق کا ساتھ دینااس کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔تقویٰ کیا چیز ہے؟ مختصر الفاظ میں تقویٰ سے یہ مراد ہے اوّل سچے عقائد کو حاصل <mark>کر</mark>نا اور ان پر ایمان لاناپھر اس کے موافق زبان کو <mark>کر</mark>نااور اپنے اعمال سے اس کاثبوت دینا۔وہ اعمال اس کے جسم کے متعلق ہوںیا مال کے۔غرض ہر طرح سے ان عقائد کے موافق سچی وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اپنے اعمال <mark>کر</mark>کے دکھا دے۔سچے عقائد کے اصول میں سے پہلی اصل یہ ہے کہ حق سبحانہٗ تعالیٰ پر ایمان لاوے۔حق سبحانہٗ تعالیٰ کا اعتقاد عظیم الشان نیکیوں اور خوبیوں اور مدارج پر پہنچنے کے لئے ضروری اور لا بدی اصل ہے، میرا ایمان اور مذہب یہ ہے کہ کوئی شخص نیک چلن اور راست باز ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان نہ لاوے۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ کوئی دہریہ بھی نیک چلن ہوسکتا ہے۔حق سبحانہ تعالیٰ کے ماننے میں ایک عظیم الشان بات اور اصل یہ بھی ہے کہ اس کی صفات کو پورے طور پر مانا <mark>جا</mark>وے۔صفات الٰہی کا مسئلہ ہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے نہ ماننے سے دنیا کا بہت بڑا حصہ ہلاک ہوا ہے۔میں نے اس معاملہ پر بہت غور کی ہے اور مختلف مذاہب کے اعتقادات اور مسائل کو خوب ٹٹولا ہے اور بڑی سوچ اور ف<mark>کر</mark> کے ساتھ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قدر مذاہب باطلہ موجود ہیں وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کے انکار سے پیدا ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسا گُر اور اصل سمجھا دیا ہے کہ میں مذاہب باطلہ کو قرآن شریف کے ایک لفظ کے ساتھ ردّ <mark>کر</mark>سکتا ہوں اور قرآن شریف کے کمالات اور فضائل میں سے یہ بھی ایک مہتم بالشان امر ہے کہ اس نے صفات الٰہی کے مسئلہ کو خوب کھول کھول <mark>کر</mark> بیان کیا ہے کیونکہ اسی راز کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دنیا نے ٹھو<mark>کر</mark> کھائی ہے اور وہ گمراہ ہوئی ہے اور اس کے علاوہ صفات الٰہی کے مسئلہ سے ہی یہ راز بھی خدا کے فضل سے مجھ پر کھلا ہے کہ انسان جس قدر بدیوں اور گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے اگر صفات الٰہی کے مسئلہ کو سمجھ لے اور ان پر پورا ایمان رکھے اور ہر بدی کے ارتکاب کے وقت یہ خیال <mark>کر</mark>لے کہ اللہ تعالیٰ نگران ہے تو میں امید <mark>کر</mark>تا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے بچالے۔