خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 458 of 660

خطابات نور — Page 458

رات بھر دعا <mark>کر</mark>تے رہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی قبولیت کو یوں رنگ دیا کہ ہر قل کی افواج کے کمانڈر انچیف ہامان نے کہا کہ مسلمان ہر روز مقابلہ <mark>کر</mark>تے ہیں اور ہم کو شکستیں ہوتی ہیں۔ان شکستوں سے بھی بدنامی ہوتی ہے۔پھر کیوں دھوکا سے ان کے چیدہ افسروں کو قتل نہ <mark>کر</mark> دیں۔اس دھوکاسے قتل <mark>کر</mark>نے پر بھی بدنامی تو ہو گی مگر شکستوں کی بدنامی کے مقابلہ میںہم کو اس بدنامی کو اختیار <mark>کر</mark>نا چاہئے۔چنانچہ اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کے بعد خط لکھا کہ خالد بن ولید اور فلاں فلاں پانچ آدمی جو اسلامی لش<mark>کر</mark> کے منتخب افسر اور بہادر ہیں۔ان کو آپ بھیج دیں تا کہ آپ کے لائق آفیسروں سے صلح اور امن کی گفتگو <mark>کر</mark>یں اور تجویز یہ تھی کہ صلح اور امن کی گفتگو کے بہانہ سے انہیں بلائیں اور جب وہ یہاں آئیں تو انہیں قتل <mark>کر</mark> دیں۔اس تجویز کے بعد ابوعبیدہ کے پاس آدمی بھی<mark>جا</mark> گیا۔انہوں نے تو یہ تجویز اپنی کامیابی کے لئے ایک زبردست منصوبہ سمجھی تھی مگر میں اس کو ان دعائوں کی قبولیت کا <mark>کر</mark>شمہ سمجھتا ہوں۔میں دعائوں کا بہت معتقد ہوں۔میں بڈھا ہو گیا اور میرا یہ ایمان بڑھتا <mark>جا</mark>تا ہے۔غرض جب اسلامی فوج کے ان عہدہ داروں کی طلبی کے لئے آدمی پہنچا تو ابوعبیدہ نے ذ<mark>کر</mark> کیا کہ ہامان پانچ آدمی بلاتا ہے۔خالد نے کہا ہم ضرار کی رہائی کی دعا <mark>کر</mark>تے رہے ہیں شاید اسی تجویز سے ضرار چھوٹ <mark>جا</mark>وے۔خالد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس موقع پر سو آدمی <mark>جا</mark>ویں۔شاید ضرورت پڑ<mark>جا</mark>وے۔ابو عبیدہ نے کہا کہ وہ تو صرف مشورہ چاہتا ہے۔مگر خالد نے کہا کہ خواہ مشورہ ہی ہو۔سو کے <mark>جا</mark>نے میں ہرج ہی کیا ہے۔خالد نے سو آدمی ساتھ لئے اور ان کو کہا کہ ہر وقت چوکس رہنا اور دوسرا کام یہ <mark>کر</mark>نا کہ پھرتی سے ہامان کو گھیر لینا۔پھر دیکھا <mark>جا</mark>وے گا۔چنانچہ اس تجویز کے موافق جب وہاں گئے تو خالد کے ساتھ سو آدمی تھے۔ہامان نے کہا کہ ہم پسند نہیں <mark>کر</mark>تے کہ سو آدمی آویں مگر ادھر سے خالد نے جواب دیا کہ ہم لڑنے کے واسطے نہیں آئے۔قرآن <mark>کر</mark>یم میں حکم ہے (الشوریٰ :۳۹) اس لئے میں ان کو یہاں لایا ہوں کہ اگر مشورہ کی ضرورت پڑ <mark>جا</mark>وے تو باہم مشورہ <mark>کر</mark> لیں۔فریق مخالف نے پھر روکا اور اعتراض کیا کہ صرف خالد کی ملاقات کا منشا ہے مگر پھر کہا گیا کہ اس جماعت کو صرف ضرورت مشورہ کے لئے لایا گیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا پھر ہتھیار پہن <mark>کر</mark> نہ آویں مگر خالد نے کہا کہ ہتھیار تو صرف ہمارا لباس ہے ہم ننگے کس طرح پر آسکتے ہیں۔آپ یہ اندیشہ کیوں <mark>کر</mark>تے ہیں جنگ میں سو آدمی اتنی بڑی فوج کے سامنے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔یہ بات ان کی سمجھ میں بھی آگئی اور انہوں نے ان کو بلا لیا۔اندر <mark>جا</mark><mark>کر</mark> انہوں نے اتنی پھرتی کی کہ ہامان بیچ میں گھِر گیا۔خالد آگے بڑھے تو ہامان نے کہا کہ میں نے تو صرف تم کو بلایا تھا اتنے آدمیوں کو کیوں تکلیف دی۔خالد نے کہا