خطابات نور — Page 381
ان کے مخالفین کے ان<mark>جا</mark>م کی نظیرہے۔اس طرح پر حسب معمول حضرت نے قرآن مجید کے اس رکوع کا درس دیا۔حضرت سلیمان اور دائود <mark>علیہ</mark>ما السلام کا واقعہ بیان <mark>کر</mark>تے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ایک کھب کے معاملہ میں فیصلہ کیا۔حضرت سلیمان کو اس کے متعلق سمجھ آگئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ چھوٹوں کو ایک بات سمجھا دیتا ہے۔دائود <mark>علیہ</mark> السلام کی زرہ کے ذ<mark>کر</mark> پر فرمایا۔دیکھو میں تمہیں اس زرہ کا پتا دیتا ہوں جو نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے بنائی ہے جو ہر مصیبت کے وقت اور ہر دکھ کے وقت ہمیں محفوظ رکھتی ہے۔وہ زرہ اسلام ہے۔ہاں وہ میرے ہاتھ میں ہے۔وہ یہ قرآن <mark>کر</mark>یم ہے۔میرا یقین ہے مجھے کامل تسلی ہے کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں <mark>کر</mark>سکتی۔کوئی باطل پرست اس کتاب کے فہم والے کا مقابلہ نہیں <mark>کر</mark>سکتا۔خدا تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیاہے کہ اگر قرآن <mark>کر</mark>یم کا من<mark>کر</mark> تجھ پر اعتراض <mark>کر</mark>ے گا تو ہم اسی وقت اس کا جواب سمجھا دیں گے۔میں نے اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ <mark>جا</mark>نتا ہے کہ تقویٰ کے مقام پر کھڑا ہو<mark>کر</mark> میں نے افترا نہیں کیا۔رکوع ختم <mark>کر</mark>نے کے بعد آپ نے فرمایا: پھر میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا سے میرے لئے بھی دعا <mark>کر</mark>و اس مسجد کو متقیوں کی مسجد بنادے۔اس میں نماز پڑھنے والوں کو مطہر بنادے۔جو لوگ اس کے مہتمم ہیں ان کی غلطیوں کی اصلاح <mark>کر</mark>ے اور ان کی صحیح باتوں کو ترقی دے اور صدموں سے محفوظ رکھے۔آمین اس کے بعد آپ نے بہت لمبی دعا کی۔اللہ تعالیٰ اس دعا کو ہمارے حق میں قبول فرماوے۔آمین (الحکم۔۱۴، ۲۱، ۲۸ ؍ اپریل ۱۹۱۰۔صفحہ ۱۳ تا ۱۶) ٭ … ٭ … ٭