خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 370 of 660

خطابات نور — Page 370

کہ اس کی نظیر نہیں ملتی یعنی تمام کاملہ صفات سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ معبود۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کو جس قدر مطالعہ <mark>کر</mark>واللہ کو موصوف اور باقی صفات ہیں۔اس ایک نقطہ سے بھی آپ خاتم النبیین ثابت ہوتے ہیں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص مہدی مجدد <mark>کر</mark>شنا مصلح ہوگا۔کچھ ہی اسے کہہ لو انگریزی الفاظ میں ریفارمر کہہ لو کچھ ہی ہو یہ ایک خوبی ہے۔مگر یہ خوبی کسی کو قیامت تک نہیں مل سکتی جب تک وہ آنحضرت کا خادم اور غلام نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ تمام روحانی فیوض کے حاصل <mark>کر</mark>نے کا ایک ہی ذریعہ ہے آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم اور یہ آپ کی ختم نبوت کی دلیل ہے۔آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم تمام خوبیوں کے <mark>جا</mark>مع ہیں اور اسی لئے آپ کا نام محمدؐ ہے ساری خوبیاں تو اس نام میں جمع ہیں۔وہی رسول ہوسکتا ہے جو محمدؐ ہو۔اَب آپ کے بعد کون رسول ہوسکتا ہے؟ پس محمد کا لفظ بھی خود ختم نبوت کی دلیل ہے۔پھر میں نے غور کیا ہے کہ انسان اپنی انسانیت کے لحاظ سے ساری مخلوق پر حکمران ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ چیتے سے شکار <mark>کر</mark>اتے ہیں۔بازوں کو دیکھا ہے کہ کیسے چلے <mark>جا</mark>تے ہیں جو شکار <mark>کر</mark>کے لے آتے ہیں۔پھر کبوتر کو دیکھا ہے۔اعلیٰ درجہ کا کبوتر چوبیس گھنٹہ آسمان پر رہتا ہے۔پھر جب بلاتے ہیں تو آواز کے ساتھ واپس آ<mark>جا</mark>تے ہیں۔ایک آدمی بھوکے شیر کے منہ میں سر دیتا ہے۔یہ ایک قسم کا کسب کمال ہوتا ہے پھر بہت سے لوگ سانپوں کو نچاتے ہیں۔چوہوں کو دیکھا ہے کہ ان سے تماشا <mark>کر</mark>اتے ہیں۔ہاتھی گھوڑوں سے ایسا تصرّف <mark>کر</mark>تے ہیں۔انہیں کہتے ہیں مر<mark>جا</mark>ئو تو وہ مردہ کی طرح لیٹ <mark>جا</mark>تے ہیں اور ان کا حکم مانتے ہیں۔یہ سب انسانی اخلاق کا نتیجہ ہے مگر تو بھی یہ ایک حد کے نیچے ہوتے ہیں۔کوئی ڈاکٹر ہے‘ انجینئر ہے‘ وکیل ہے‘ اکانومسٹ ہے‘ مصلح قوم ہے‘ سپہ سالار ہے‘ فاتح ہے۔غرض کسی ایک یا دوسرے ُخلق میں بڑائی ہوگی مگر اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کے لئے فرماتا ہے۔(القلم :۵) جس کو خدا تعالیٰ عظیم کہے اس کی عظمت وہم میں بھی نہیں آسکتی۔(التوبۃ :۱۲۹) کا عظیم <mark>بے</mark> مثل ہوتا ہے پھر کہا تو یہ کہا  زبان کی خوبیوں کے لحاظ سے یہ جملہ نہایت عجیب ہے۔