خطابات نور — Page 345
بچوں کو نصیحت (تقریر فرمودہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۹ء بعد نماز مغرب بمقام مسجد مبارک قادیان) حضرت خلیفۃ المسیح نے مدرسہ کے چھوٹے بچوں کو مخاطب <mark>کر</mark> کے فرمایا۔تم <mark>جا</mark>نتے ہو کہ برسات میں جب آم کی گٹھلیاں زمین میں اگ آتی ہیں تو بچے اکھیڑ <mark>کر</mark> ان کی پیپیاں بناتے ہیں لیکن اگر اس آم کی گٹھلی پر پانچ چھ برس گزر <mark>جا</mark>ویں تو باوجود یہ کہ یہ لڑکا بھی پانچ چھ برس گزرنے پر جوان اور مضبوط ہو <mark>جا</mark>ئے گا لیکن پھر اس کا اکھیڑنا دشوار ہو گا پس معلوم ہوا کہ جب تک جڑ زمین میں مضبوطی کے ساتھ نہ گڑ <mark>جا</mark>ئے۔اس وقت تک اس کا اکھیڑنا آسان ہے۔اور جڑ مضبوط ہونے کے بعد دشوار۔عادات وعقائد بھی درخت کی طرح ہوتے ہیں بری عادات کا اب اکھیڑنا آسان ہے۔لیکن جڑ پکڑ <mark>جا</mark>نے کے بعد ان کا ترک <mark>کر</mark>نا یعنی اکھیڑنا غیر ممکن ہو گا بعض بچوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہو <mark>جا</mark>تی ہے اگر شروع سے ہی اس کو دور نہ <mark>کر</mark>و گے تو پھر اس کا دور <mark>کر</mark>نا مشکل ہو گا۔ہم نے دیکھا ہے کہ جن کو بچپنے میں جھوٹ کی عادت پڑ گئی ہے پھر عالم فاضل ہو <mark>کر</mark> بھی ان سے جھوٹ کی عادت نہیں چھوٹتی ہے۔جھوٹ بولنے کی عادت اس طرح ہوتی ہے مثلاً کسی لڑکے کو دودھ پیتے دیکھا تو خود بھی اس کی ریس <mark>کر</mark>نے کو جی چاہا کہ ہم کو بھی دودھ پینا چاہئے پھر اس کے لئے چند دلائل بھی دماغ میں پیدا <mark>کر</mark> لئے کہ ہمارا دماغ کمزور ہے اگر دودھ نہ پئیں گے تو دماغی کام نہ ہو سکے گا پیسے پاس نہیں ہیں تو پھر جھوٹ بول <mark>کر</mark> پیسے حاصل <mark>کر</mark>تے ہیں۔ایک مرتبہ ہماری جوانی کا زمانہ تھا اور ہم مقام خوشاب میں تھے کہ حسین شاہ نامی ایک شخص دودھ کا کٹورا بھر <mark>کر</mark> ہمارے سامنے لایا اور کہا کہ اس کو پی لو۔میں نے کہا میں تو دودھ پی نہیں سکتا اور مجھ کو دودھ ہضم نہیں ہوتا۔اس نے بڑے تعجب کے ساتھ کہا کہ ہم تو تم کو حکیم سمجھ <mark>کر</mark> دوا دریافت <mark>کر</mark>نے آئے تھے تم تو خود ہی مریض ہو۔بھلا بتائو تو سہی اگر تم سے کوئی شخص اس بات کی دوا پوچھے کہ مجھ کو دودھ ہضم نہیں ہوتا تو تم کیا بتا سکتے ہو جبکہ تم خود اپنی ہی دوا نہیں <mark>کر</mark> سکتے۔میں نے یہ سن <mark>کر</mark> کٹورا