خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 660

خطابات نور — Page 314

کی دکان پر گئے ہو۔وہاں، وہاں کچھ دیکھا ہے۔پہلے مجھے ان کی بات سمجھ میں نہ آئی۔آخر انہوں نے سمجھایا کہ قصائی جب گوشت کاٹتا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد دونوں چھریوں کو باہم رگڑتا ہے۔اس سے اس کی غرض بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتی۔مگر ایسا <mark>کر</mark>نے سے وہ چھریاں درست رہتی ہیں۔اسی طرح پر انسان کا حال ہے۔وہ ایک دوسرے انسان کی صحبت سے اس زنگ کو دور <mark>کر</mark>لیتا ہے جو اس کے قلب پر آ<mark>جا</mark>تا ہے۔اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ کیسا عمدہ نکتہ معرفت ہے جو انہوں نے بتایا ہے۔بعض وقت انسان کے اندر دکھ ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کی صحبت سے وہ دور ہو<mark>جا</mark>تے ہیں۔یہ بھی یاد رکھو کہ رؤساء خواہ کتنے ہی برے ارتکاب <mark>کر</mark>یں مگر بدمعاش حرام زادوں کو کبھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔یہ بہت بڑا مضمون ہے۔اس لئے اس پر زیادہ نہیں کہتا۔ششم۔واعظوں کے وعظ اور صلحاء کی کتابوں سے فائدہ ہوتا ہے۔ہفتم۔کھانے، پینے، پہننے میں بانکا پن اختیار نہیں <mark>کر</mark>نا چاہئے۔جو لڑکے بانکے لباس پہنتے ہیں۔انہیں چار خطرناک عادتیں اختیار <mark>کر</mark>نی پڑتی ہیں۔حکایت بر سبیل تذ<mark>کر</mark>ہ: ہمارے بھیرہ میں ایک کنچنی جوائی نام رہتی تھی۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا یہ پیشہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ایک لُچّا آدمی محلہ میں سے گزر<mark>جا</mark>وے تو ناگوار معلوم ہوتا ہے۔مگر تمہیں کوئی حس نہیں۔اس نے کہا۔قربان <mark>جا</mark>ئوں جو لوگ خوش خوراک ہوں‘ خوش پوشاک ہوں اور اس پر سست ہوں اگر وہ کنجر نہ بنے تو کیا <mark>کر</mark>ے۔میں نے کہا۔خوب است۔یہ نکتہ بچپن میں ہم نے اس سے سنا۔یہ گویا ایک مصرعہ تھا۔اب دوسرا مصرعہ مشنری کمپونڈوں کی صورت میں معلوم ہوا کہ جو لوگ محنت کے عادی نہیں اور اچھا کھانا پہننا چاہتے ہیں۔سست اور خلیع الرسن ہیں۔وہ اتنا ہی غنیمت سمجھ لیتے ہیں کہ مشن کمپونڈوں میں روٹی ہی مل <mark>جا</mark>تی ہے۔غرض جو لوگ کھانے پینے اور پہننے میں تو غل <mark>کر</mark>تے ہیں۔آخر بڑی ہی مشکلات میں مبتلا ہو<mark>جا</mark>تے ہیں اور پھر خدا پر ناراض ہوتے ہیں کہ اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟ کبھی ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں اور پھر دوستوں پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیوں قرضے نہیں دیتے؟ یہ خوب یاد رکھو کہ جو لوگ عمدہ کھانے پہننے اور عمدہ لباس کی ف<mark>کر</mark>