خطابات نور — Page 296
میرے ہاتھ میں آیا اور میں نے دیانت کے ساتھ اسے دوسری جگہ پہنچا دیا مگر ایک نے کل اور دو نے آج کہا کہ ہم تخصیص <mark>کر</mark>تے ہیں اور الحاح سے کہا تو میں نے یہ سمجھ <mark>کر</mark> کہ خداد لاتا ہے لیا یا میرا لباس ہے میں بنانا نہیں چاہتا بعض دوستوں نے ایسا کیا ہے کہ کوئی کپڑا انہوں نے بھیج دیا تو میں نے انکار نہیں کیا یہی کوٹ ہے جو ایک عزیز نے دیا ہے اور مجھ سے خواہش کی کہ آج ہی پہن لو یا پھل آتا ہے تو میں اس کے لینے میں مضائقہ نہیں <mark>کر</mark>تا۔غرض چندوں کے متعلق بڑے بڑے ع<mark>جا</mark>ئبات ہیں اور یہ چندے انبیاء کے ساتھ بھی رہے اولیاء کے ساتھ بھی رہے ہمارے امام کے ساتھ بھی اور ہمارے ساتھ بھی وابستہ ہیں اور ہمارے بعد بھی رہیں گے۔پھر چندہ دینے والوں کو بھی بعض اوقات مشکلات آتی ہیں ہمارے دوستوں خاص دوستوں ہاں لنگوٹیے دوستوں میں سے ایک حکیم فضل الدین ہیں۔انہوں نے ہزاروں روپیہ کی <mark>جا</mark>ئیداد دے دی ہے مگر بھائیوں اور ان کے رشتہ داروں کے خیال میں آیا کہ یہ سب کچھ مال بٹورنے کے لئے چالاکی کی حالانکہ اتنا نہیں سوچا کہ وہ مال لے کہاں <mark>جا</mark>وے گا اس کی نہ جوانی کی عمر ہے نہ اولاد ہے نہ کوئی حقیقی بھائی اور مائوں سے بھائی ہیں ان کو بھی یہی شبہ ہے پہلے وہ نیک سمجھتے تھے۔مگر یہ تو برُا آدمی ہے اس قسم کے مشکلات بھی آ<mark>جا</mark>تے ہیں مگرجو محض خدا کے لئے دیتے ہیں ان کو ان باتوں کی کیا پرواہ؟ تم اپنے چندوں کی نسبت مطمئن رہو کہ وہ جس غرض کے لئے آتے ہیں اسی پر خرچ ہوتے ہیں یاد رکھو ان کی نسبت کسی قسم کی بدظنی نیک نتیجہ نہیں دے سکتی۔میں نے اپنا حال تو تمہیں بتا دیا کہ تمہارا پھل شرینی یا لباس تو میں لے لیتا ہوں مگر روپیہ کے لئے نہ نمبردار بنا اور نہ اس غرض کے لئے تم سے بیعت لی اور نہ میں نے یہ سمجھا ہے کہ تم اس غرض کے لئے جمع ہوئے ہو اور نہ میں اس مقصد کے لئے کھڑا ہوا۔میں نے یا میرے دوستوں نے اگر کہا تو وہ اس قسم کی بات ہوگی جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے باوجود غنی ہونے کے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے یا حضرت امام دیتے تھے میں بھی اسی طرح تمہیں دلانے کے لئے کہتا ہوں۔