خطابات نور — Page 252
ان الہامات پر ایک سعادت مند دل غور <mark>کر</mark>ے۔پھر صفحہ نمبر ۴ کی سطر ۱۵ سے فرماتے ہیں۔’’اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلاناچاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے <mark>کر</mark>دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں <mark>کر</mark>تا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے <mark>کر</mark> جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۴) اس آپ کے پاک کلام سے کیسا واضح ہوتا ہے کہ آپ کو قربِ اجل کی خبر دی گئی اور آپ نے الوصیۃ لکھ دی اور اس حالت کا ایسا نقشہ کھینچا کہ گویا آپ دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف موت ہے دوسری طرف دشمن ہنستا ہے۔سامنے قوم ہے۔ان کلمات طیبات اور اس نظارہ کو جو آپ کی وفات کے بعد لاہور میں ہم نے دیکھا ہے کوئی عقلمند سعید دیکھے اور <mark>بے</mark> باک مرتد کا ٹریکٹ اس پر طرہ اور امرتسری مولوی کا اشتہار علاوہ بریں ہر دو۔تو قدرت کا مشاہدہ ہو<mark>جا</mark>تا ہے کہ خدا کی باتیں کیسی سچی ہوتی ہیں جو وہ اپنے بندوں سے فرماتا اور ان کے منہ سے نکلواتا ہے۔اب آپ کی وفات تو ہوچکی اور ہم نے دیکھ لی اور وہ صداقت بھی ظاہر ہوچکی جس کا ذ<mark>کر</mark> فرمایا کہ لوگ ہنسی ٹھٹھا <mark>کر</mark>یں گے تو اب الوصیۃ کے صفحہ نمبر ۵ سطر اوّل میں جو ارشاد فرماتے ہیں۔اس کو پڑھیں۔’’نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو<mark>جا</mark>تا ہے اور دشمن زور میں آ<mark>جا</mark>تے ہیں (جیسے ہم کو لاہور میں ایسا تنگ <mark>کر</mark>نا چاہا کہ گویا اب ہم کو کھالیں گے۔اس وقت ابر رحمت کی طرح پولیس آگئی اور مسخرے خائب و خاسر بھاگے۔ناقل) اور خیال <mark>کر</mark>تے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین <mark>کر</mark>لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو<mark>جا</mark>ئے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ <mark>جا</mark>تے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ <mark>جا</mark>تی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار <mark>کر</mark>لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ (پہلی مرتبہ تو اس امامؑ کے وقت میں ان لوگوں نے ناخنوں تک زور لگایا اور جہاں تک ان سے