خطابات نور — Page 232
پھر انسان طاقتوروں کا بھی اپنا بننا چاہتا ہے مثلاً حکام کا جیسے کوئی شخص کہہ دیتا کہ فلاں ڈاکٹر یا فلاں حکیم یا فلاں ڈپٹی انسپکٹروغیرہ میرا اپنا ہے یعنی میرا دوست ہے۔پس جو لوگ مذہب کے پابند ہیں یعنی خد اکی ہستی کو مانتے ہیں (کیونکہ اس وقت میں خدا کی ہستی پر بحث <mark>کر</mark>نے کے واسطے کھڑا نہیں ہوا۔اور وہ اور قومیں جن کے سامنے ہمیں یہ بحث <mark>کر</mark>نے کی ضرورت ہوتی ہے)وہ اس ہستی کو خوب <mark>جا</mark>نتے ہیں کہ وہ بڑا علیم اور قادر ہے۔اگر کوئی شخص اس پر اعتراض بھی <mark>کر</mark> دے تو میں تھوڑا سا ثبوت دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میرے ایک بڑے مہربان نے مجھ پر سوال کیا کہ قرآن <mark>کر</mark>یم میں آیا ہے کہ(المائدۃ:۹۸)۔یعنی کعبہ ہم نے ایک عزت کا گھر بنایا ہے وہاں لوگ حج کو <mark>جا</mark>تے اور قربانیاں <mark>کر</mark>تے وغیرہ۔یہ اس لئے کہ خدا ہے اور قادر ہے اور علیم ہے۔کیا یہ دلیل مکہ کے وجود سے ثابت ہو <mark>جا</mark>تی ہے اگر کوئی شخص کہہ دے کہ دو ہزار برس تک یہ جہت ایسا ہی م<mark>کر</mark>م اور معظم رہے گا۔کیا کوئی عالم یہ دعو یٰ <mark>کر</mark>سکتا ہے ہرگز نہیں۔پھر خدا کہتا ہے کہ ہم نے اس مسجد کو عزت والا بنا دیا ہے دنیا کی ہزاروں سلطنتیں پلٹ <mark>جا</mark>ویں دنیا الٹ پلٹ ہو <mark>جا</mark>وے اور یہ سب کچھ ممکنا ت میں سے ہے پر ایسے جنگل و بیابان میں ایک کو ٹھہ ہے اوراس کے لئے دعویٰ کیا <mark>جا</mark>تا ہے اور دنیا میں شور مچا دینا کہ اس کو مٹا <mark>کر</mark> تو دکھلائو۔پھر اس کو کوئی مٹا نہ سکے گا پھر یہ بات کیسی پوری ہوئی یہ اس لئے کہ تمہیں پتا لگ <mark>جا</mark>وے کہ کوئی خدا کی ذات ہے اور وہ زمین و آسمان کی باتیں <mark>جا</mark>نتاہے اور یہ کہ وہ ہر ایک بات کا <mark>جا</mark>ننے والا ہے اور وہ قادر ہے۔پس جب ایسے علیم وقادر سے محبت ہو تو پھر کیا بات ہے۔متقی کے واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱۔(التوبۃ:۴)۔اللہ متقی کو پیار <mark>کر</mark>تا ہے ۲۔(المائدۃ:۲۸)۔اللہ قبول <mark>کر</mark>تا ہے متقی کی بات کو۔۳۔(البقرۃ:۲۸۳)۔متقی کو وہ <mark>علم</mark> سکھائیں جو تمہیں نہیں آتا۔۴۔(الطلاق:۳،۴) متقی کو ہر تنگی اور دکھ سے نکلنے کا راستہ ہم بتا دیںگے اور اس کو اتنا رزق دیں گے کہ وہ شمار بھی نہ <mark>کر</mark> سکے