خطابات نور — Page 230
<mark>جا</mark>مع ہے۔غرض سننے والا اپنے وقت اور طاقت کو ضائع نہ <mark>کر</mark>ے۔یہاں کیسا ہجوم ہے اور ہجوم میں کیسی خلاف صحت ہوائیں چلتی ہیں۔پس اس جگہ کھڑے ہو <mark>کر</mark> تم اپنا وقت ضائع نہ <mark>کر</mark>نا بلکہ تمہاری اغراض نیک ہوں۔سنانے والے کے کیا اغراض ہیں۔یہ بتلانے کی مجھے ضرورت نہیں۔کیونکہ یہ معاملہ میرے دل کا ہے یا میں خود <mark>جا</mark>نتا ہوں یا اس سے بڑھ <mark>کر</mark> میرا مولا خوب سمجھتا ہے۔کیونکہ وہٰ (طٰـٰہ :۸)۔یعنی وہ موجودہ اغراض کو اور کہ ان اغراض کا نتیجہ دوسال کے بعد کیا ہو گا۔اس نتیجہ کو بھی <mark>جا</mark>نتا ہے اس واسطے میں اپنی غرض کو بتلائو ں کہ میری اس بولنے سے کیا غرض ہے ضرور ت نہیں ہے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ بہتر <mark>جا</mark>نتا ہے۔بہر حال تم لوگ اگر نیکی کی اغراض سے میری اس تقریر کو نہیں سنتے تو اپنے قیمتی وقت کو ایسی ہجو م اور ایسی متعفن ہو ا میں <mark>بے</mark> فائدہ رائیگاں نہ <mark>کر</mark>و۔بہت ساری مخلوق ایسی ہوتی ہے کہ ان کے اغراض بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور صرف موجودہ وقت کے واسطے ہوتے ہیں ہر انسان کو <mark>علم</mark> اور عقل اس لئے بخشا گیا ہے کہ اس کے اغراض بھی بہت بلند پر واز ی <mark>کر</mark>نے والے ہوں۔یہ میں نے تمہاری خیر خواہی کی ہے۔پس میری پہلی بات کو تم لے لو۔اور بڑی بات کو۔کا لائے بد بریش خاوند۔یہیں چھوڑ دو۔حق و حکمت کا کاسہ لینے سے دریغ نہ <mark>کر</mark>و اور برائی کے کلمہ سے ہمت بلند سے کام لے <mark>کر</mark> اعراض <mark>کر</mark>و۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اے ایمان والو تقویٰ اختیار <mark>کر</mark>و جیسا کہ تقویٰ اختیار <mark>کر</mark>نے کا حق ہے۔تقویٰ کیا ہے اوراس کا نتیجہ کیا ہے اور اس کے پہلوئوں سے انسان کس طرح آگاہ ہو سکتا ہے۔اس سے مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تقویٰ کا حکم دیتا ہے کہ حق تقویٰ ادا <mark>کر</mark>و۔تقویٰ کہتے ہیں اس بات کو جس سے انسان دکھوں اور تکالیف سے بچ سکتا ہے۔عربی زبان میں اس کا نام تقویٰ رکھا ہے اب آیا کہ کس طرح انسان دکھوں اور مصیبتوں سے بچ سکتا ہے قرآن <mark>کر</mark>یم نے اس کو کھول <mark>کر</mark> بیان فرمایا ہے۔یہاں میں صرف ان میں سے ایک ہی آیت کو لیتا ہوں۔