خطابات نور — Page 191
یہاں خصوصیت کے ساتھ بیع کا کیوں ذ<mark>کر</mark>کیا ہے؟ حقیقت میں جو لوگ قرآن شریف پر غور <mark>کر</mark>تے ہیں اور اس کے نکات اور معارف سے بہرہ حاصل <mark>کر</mark>نا چاہتے ہیں ان کو ضروری ہے کہ وہ اس کی ترتیب اور الفاظ پر بڑی گہری نگاہ سے غور کیا <mark>کر</mark>یں۔میں نے جب اس لفظ پر غور کی تو میرے ایمان نے شہادت دی کہ چونکہ یہ سب سلسلہ وَ کے نیچے ہے اور یہ مہدی اور مسیح کا زمانہ ہے اس زمانہ میں د<mark>جا</mark>ل کا فتنہ بہت بڑا ہوگا اور د<mark>جا</mark>ل کے معنی کتب لغت میں جو لکھے ہیں اس سے پایا <mark>جا</mark>تا ہے کہ وہ ایک فرقہ عظیمہ ہو گا جو ت<mark>جا</mark>رت کے لئے پھرے گا۔گویا یہ مشترکہ کمپنیاں ت<mark>جا</mark>رت کی طرف بلاتی ہوں گی اور ذ<mark>کر</mark> اللہ اور طرف۔اس لئے اس بیع کے لفظ میں د<mark>جا</mark>ل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک جمعہ تو ہفتہ کے بعد پڑھتے ہیں جیسے یہ جمعہ چھوٹا ہے ویسے ہی اس کے مقابل ت<mark>جا</mark>رتیں بھی چھوٹی ہوتی ہیں لیکن ایک عظیم الشان جمعہ ہے چھ ہزار برس کے بعد ساتویں ہزار کا جمعہ ہے اگر اور دنوں میں جمعہ کی ضرورت ہے اور اس کے حق میں ہمارے نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو جمعہ کی پروا نہیں <mark>کر</mark>تا اس کا ۴ -۱ حِصّہ دل کا سیاہ ہو<mark>جا</mark>تا ہے اور دو جمعہ کے ترک سے نصف اور چار جمعہ کے ترک سے سارا دل سیاہ ہو <mark>جا</mark>تا ہے اور اس طرح پر گویا عبادت کی لذت ہی باقی نہیں رہتی۔پھر فرمایا جو جمعہ سے تخلّف <mark>کر</mark>تے ہیں میرے جی میں آتا ہے کہ ان کے گھروں میں آگ لگا دی <mark>جا</mark>وے اور پھر فرمایا کہ اس جمعہ میں ایک وقت ہے جو قبولیتِ دُعا کا وقت ہے پھر اسی جمعہ میں آدم اپنے کمال کو پہنچا اور بہشت میں داخل ہوا۔بہشت سے باہر مخلوقات کے پھیلانے کا ذریعہ ہوا۔اسی جمعہ میں بہت درود شریف پڑھنے کا ارشاد ہوا کم از کم سو بار جمعہ کی رات اور دن کو۔اور ایک اَور عظیم الشان بات ہے کہ جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھ لیا <mark>کر</mark>و اور نہیں تو کم از کم پہلی اور آخری دس آیتیں ہی پڑھ لیا <mark>کر</mark>و۔پہلی آیتوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں لکھا ہے۔ (الکہف :۵)یعنی ان کو ڈرایا <mark>جا</mark>وے جنہوں نے اللہ کا ولد تجویز کیا ہے اور یہ بھی ہے کہ اس کا بیٹا تجویز <mark>کر</mark>نے میں (الکہف :۶) نہ ان