خطابات نور — Page 129
ہر قسم کے مصائب آتے ہیں مگر وہ ایسی سپر کی اوٹ میں ہوتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔نبی <mark>کر</mark>یم صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کو دیکھو مکہ کے تمام بڑے بڑے عمائد اور منصوبہ سازوں نے مل مل <mark>کر</mark> سعی کی کہ تلوار کے نیچے آپ کو ذبح <mark>کر</mark>دیں۔ہر طرح سے چاہا کہ مخلوق کو روکیں کوئی اس کے پاس نہ <mark>جا</mark>وے مگر کا وعدہ ایسا پورا ہوا کہ جناب الٰہی سے یہ صدا آگئی (النصر :۲ تا۳) پر غور <mark>کر</mark>و کیسا وعدہ پورا ہی ہو<mark>کر</mark> رہا ہر قسم کے فتوحات اور کامیابیاں آپ کو عطا ہوئیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسی سپر آپ کو معلوم تھی جو کوئی مشکل اور مصیبت اس پر اثر نہ <mark>کر</mark>سکتی تھی۔وہ تو ایک عظیم الشان انسان تھا جس کی طرز،جوڑ، مثل کا کوئی دوسرا انسان نہیں ہوسکتا اور پھر یہ تیرہ سو برس کی بات ہے جو تم نے دیکھی نہیں۔صرف تاریخوں میں پڑھی ہے مگر کیسی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت تمہاری آنکھوں کے سامنے اسی محمد مکی صلی اللہ <mark>علیہ</mark> وسلم کا خادم اور غلام احمد قادیانی (خدا کی برکت اور نصرت اس کے ساتھ ہو) تم میں موجود ہے۔یہ مرزا کا مکان ہے۔اس کے چاروں طرف دشمن ہیں۔اِدھر دشمن اُدھر دشمن، بازار میں دشمن، شہر سے باہر دشمن، غرض ہر طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں ہے۔اسی پر بس نہیں ہے عالِم <mark>علم</mark>ی تلوار سے قتل <mark>کر</mark>نا چاہتے ہیں۔س<mark>جا</mark>دہ نشینوں نے اپنی ضربوں اور حزبوں کا پورا زور لگایا۔ناعاقبت اندیشوں نے اقدام قتل کے مقدمے بنا<mark>کر</mark> پھنسانا چاہا۔ملانوں نے قتل کے فتوے دے <mark>کر</mark> جہلا اور عوام کو بھڑکا <mark>کر</mark> <mark>جا</mark>ن لینی چاہی۔ٹیکس کا مقدمہ بنوا <mark>کر</mark> مالی نقصان پہنچانے کی ف<mark>کر</mark> کی۔غرض کوئی دقیقہ اپنی کوششوں کا باقی نہیں رکھا مگر یہ خدا کو سپر بنانے والا ہر میدان میں باوجود اس کے کہ ظاہری اسباب مخالف ہی تھے کیسے بچ <mark>کر</mark> نکلتا رہا ہے۔یہ تو مسلمانوں کا حال ہے۔پھر آریہ، برہمو، سناتن، سکھ، پادری اپنی اپنی جگہ پر کبھی گورنمنٹ کو بدظن <mark>کر</mark>نا چاہتے ہیں۔کبھی کسی اور پیرایہ میں اس ف<mark>کر</mark> میں لگے رہتے ہیں کہ اس کو پھنسائیں مگر اللہ اللہ اس کے پاس کوئی ایسی سپر موجود ہے کہ مخالفوں کا وار اس پر چل ہی نہیں سکتا۔میں تو مرزا کو دیکھ دیکھ <mark>کر</mark> اس قدر ایمان میں ترقی <mark>کر</mark>تا ہوں کہ اس کا اظہار بھی نہیں ہوسکتا۔تم خود اس کو دیکھو نت نئی جوانی کی بہار دکھاتا ہے۔ہر نیا دن اس کو جوان بناتا <mark>جا</mark>تا ہے۔اب اس کی حالت کو دیکھو کہ مخالفوں کی اس قدر