خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 660

خطابات نور — Page 123

انسان کی رضامندی کی راہوں کو باوجود یکہ وہ کھانے پینے میں اس سے ایک قرب اور مشابہت رکھتا ہے اور جینت کے لحاظ سے بھی ایک مشابہت اور علاقہ رکھتا ہے معلوم نہیں <mark>کر</mark>سکتا تو اللہ تعالیٰ جو وراء الورا ہستی ہے اس کی رضامندی کی راہوں کو کیون<mark>کر</mark> معلوم <mark>کر</mark>ے؟ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی راہ جیسا کہ نادان برہمو کہتا ہے۔بودی اور کمزور عقل اور محدود اور ناکافی تجربہ سے ہرگز معلوم نہیں ہوسکتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر دنیا میں رنج اور غم کیوں موجود ہوتا؟ پس معلوم ہوا کہ اللہ کی رضامندی کی راہ اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ خود نہ بتلاوے مگر پھر معاً یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو غنی عن العالمین ہے۔وہ کوئی محتاج نہیں ہے۔پھر کیا تدبیر اور سبیل کی <mark>جا</mark>وے کہ ان رضا کی باتوں کا پتہ لگ <mark>جا</mark>وے جن پر <mark>عمل</mark>درآمد <mark>کر</mark>نے سے سچا تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سپر ہو<mark>جا</mark>تا ہے اور ہر قسم کی کامیابیاں عطا فرماتا ہے اور یہ بات بھی ساتھ ہی ہے کہ کیا وہ ہر ایک کو بتلاتا ہے کہ میں یوں راضی ہو<mark>جا</mark>ئوں گا۔جب ہم غور سے دیکھتے ہیں تو یہ بھی اس کی عادت نہیں ہے۔پس معلوم ہوا کہ خدا کو راضی <mark>کر</mark>نے کی راہ بدون اس کے بتلائے معلوم نہیں ہوسکتی۔جس کے لئے خاص فرشتے خاص بندے مقرر کئے ہیں۔جن کے ذریعہ وہ آگاہ <mark>کر</mark>تا ہے۔وہ مرسل اور رسول ہوتے ہیں۔وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔بلکہ خدا کی بات کہتے ہیں۔۱؎ لیکن یہ مشکل پیش آئے گی کہ دنیا میں دھوکے بھی ہوتے ہیں جھوٹے مدعی اور خیالی مصلح بھی ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ وحی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اندر ہی کی آواز ہوتی ہے جو دل سے ہی نکلتی اور دل پر ہی پڑتی ہے اور پھر ایسے بھی ہیں۔جو ایسے مدعیوں کو مجنون اور دکاندار کہتے ہیں اور دنیا میں دکاندار بھی ہوتے ہیں۔پھر یہ قاعدہ کیسا عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مجھ کو سپر بنائو اور پھر سپر بھی اس طرح جو سپر بنانے کا حق ہے۔رضاء الٰہی کی اطلاع بدون بتلائے نہیں مل سکتی اور سب کو نہیں ملتی۔صرف چند خواص کو ملتی ہے اور ادھر یہ دُبدہا پڑی ہوئی ہے کہ ہزاروں انسان دغا اور فریب <mark>کر</mark>تے ہیں اگر کوئی اس معاملہ میں بھی جھوٹ کہہ دے تو کیون<mark>کر</mark> پتہ لگے گا۔اور پھر اس کے بعد یہ فرمایا ہے (اٰل عمران :۱۰۳) تم فرمانبردار ہو<mark>کر</mark> ہی مرو، فرمانبرداری جب ہو کہ جب فرمان ہو اور فرمان میں میں نے ابھی کہا ہے کہ اس دُبدہا