خطابات نور — Page 117
دلوں پر پڑتا ہے اور ان کو اس کی طرف کھینچ لاتا ہے۔انبیاء <mark>علیہ</mark>م السلام کی کامیابی کی اصل جڑ یہی ہے۔اس لئے تم جو کامیابی چاہتے ہو اس اصل کو مضبوط پکڑے رکھو اور ہر ایک کام کو محض اللہ تعالیٰ ہی کی رضاجوئی کے لئے <mark>کر</mark>و۔اس میں اپنے اغراض اور مقاصد کو قربان <mark>کر</mark>دو۔ورنہ ذاتی اغراض اس میں شریک ہو<mark>کر</mark> اس کی برکت اور خوبی کو کھو دیں گے۔میں <mark>جا</mark>نتا ہوں کہ تمہیں اپنے مخالفوں سے بہت کچھ سننا پڑتا ہے اور ایسے مواقع بھی آ<mark>جا</mark>تے ہیں کہ تمہیں ان سے گفتگو <mark>کر</mark>نی پڑتی ہے۔ایسے وقت کے لئے یاد رکھو کہ دشمن کے لئے تیار رہو مگر تائید الٰہی پر بھروسہ <mark>کر</mark>کے دعا مانگتے رہو۔کبھی مناظرات اور مباحثات کی خود خواہش نہ <mark>کر</mark>و لیکن اگر مقابلہ پیش آ<mark>جا</mark>وے تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ <mark>کر</mark> کشودکار کی خواہش <mark>کر</mark>و۔اختلافی مسائل کے حل کے لئے آسان طریق یہی ہے کہ ان کو لکھ رکھو تاکہ ہر وقت نظر پڑتی رہے اور خدا تعالیٰ سے اس کے لئے بھی دعا مانگتے رہو کیونکہ ہر ایک مسئلہ میں ہدایت کی راہ بتادینا خدا ہی کا کام ہے۔(الیل:۱۳) جب انسان سچا دل لے <mark>کر</mark> جناب الٰہی میں تضرع <mark>کر</mark>تا ہے اور کہتا ہے کہ مولا <mark>کر</mark>یم تو <mark>جا</mark>نتا ہے میں تیری رضا کے لئے سعی اور م<mark>جا</mark>ہدہ <mark>کر</mark>تا ہوں اس راہ میں تو ہی مجھے مدد دینے والا ہے اور تیرے ہی فضل سے منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہوں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان اختلافی مسائل اور مشکلات کو پتوں کے ہلنے اور ہوائوں کے جھونکوں میں حل <mark>کر</mark>دیتا ہے ہاں اخلاص ہو۔اللہ تعالیٰ مستغنی کو کبھی پسند نہیں <mark>کر</mark>تا کیونکہ غنا مخلوق کو نہیں دیا گیا ہے میں باربار تم لوگوں کی توجہ دعا کی طرف منعطف <mark>کر</mark>تا ہوں کیونکہ ام الکتٰب دعا ہی سے شروع ہوتی ہے۔بدبخت ہیں وہ لوگ جو دعا سے محروم ہوئے اور تکبر اور خودپسندی کے خطرناک مرض میں مبتلا ہوگئے۔منافقوں کے خصائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں۔پس تم کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔چھوٹے سے چھوٹے بھائی کو بھی حقیر مت <mark>جا</mark>نو ورنہ مقابلہ میں خدا ہنسی میں اڑا دیتا ہے۔تم نے وہ اشتہار شاید سنا ہوگا یا پڑھا ہوگا جو ہمارے رحیم و <mark>کر</mark>یم امام نے دیا تھا کہ اپنی آوازوں کو قابو میں رکھو دوسرے پر حملہ <mark>کر</mark>تے ہوئے شرم و حیا سے کام لو۔تم اپنی آوازوں کو نکالتے