کسر صلیب

by Other Authors

Page 362 of 443

کسر صلیب — Page 362

۳۶۲ مجھ سے مل جائے۔تو بھی نہ جیسا ئیں چاہتا ہوں مینگر جیسا تو چاہے ویساہی ہوئہ امتی ہیں) نیز لکھا ہے :۔مجھے نے ٹیک کر یوں دعا کرنے لگا کہ اسے باپ اگر توچا ہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹائے تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو یا روتا ہے راسی طرح یہ بھی لکھا ہے کہ :۔" تیسرے پہر کو یسوع بڑی آواز سے چلایا کہ الوھی الوھی لما شبقتنی؟ جس کا ترجمہ ہے اسے میرے خدا! اسے میر سے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیار" (مرقس ) ! ان حوالہ جات میں مسیح کی نہایت عاجزانہ دعاؤں کا ذکر ہے جو اس نے صلیب سے قبل اور صلیب پر لٹکے ہوئے خدا سے کہیں۔انجیل سے یہ بھی ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام کی یہ دعائیں قبول ہو گئی تھیں لکھا ہے :- " اس نے اپنی بشریت کے دنوں میں زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کہ اسی سے دعائیں اور التجائیں کیں جو اس کو موت سے بچا سکتا تھا اور خدا تریسی کے سبب اس کی سنی گئی یا (عبرانیوں (2) پس ہمارا استدلال یہ ہے کہ : - ادل تو نبیوں کی دُعا جو اس زاری سے ہو ضرور قبول ہوتی ہے۔دوم انجیل سے ثابت ہے کہ یہ دعا د افعی قبول ہوئی۔پس جب یہ دعا صلیب کی میت سے نجات کے لئے تھی اور دُعا قبول ہو گئی تھی تو صاف ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السّلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : - (1) " تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے لئے تمام رات دعا مانگی تھی۔اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہوگیا ہے " صلیب پر پھر سج نے اپنے بچنے کے لئے یہ دُعا کی اپنی اپنی لما سبقتانی آے میرے خدا با اسے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اب کیونکر ممکن ہے کہ جب کہ ه ایام اصلح مثلا روحانی خزائن جلد ۱۴ +