کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 279

کرامات الصادقین — Page 97

كرامات الصادقين ۹۷ اُردو ترجمہ لَهُ صُحْبَةٌ كَانُوا مَجَانِينَ حُبِّهِ وَجَعَلُوا تَرَى قَدَمَيْهِ لِلْعَيْنِ اثْمَدًا آپ کے کچھ صحابی تھے جو آپ کی محبت میں دیوانے تھے ۔ انہوں نے آپ کے دونوں قدموں کی خاک کو آنکھ کا سرمہ بنالیا۔ وَ اَرَوْا نَشَاطًا عِنْدَ كُلِّ مُصِيبَةٍ كَعَوْجَاءِ مِرْقَالِ تُوَارِي تَخَدُّدًا اور ہر مصیبت کے وقت انہوں نے خوشی ظاہر کی ۔ دہلی تیز رو اونٹنی کی طرح جو ( تیز روی سے ) دبلا پن چھپا دیتی ہے ۔ وَ إِذَا مُرَبِّيْنَا اَهَابَ بِغَنَمِهِ فَرَاعُوا إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ تَوَدُّدَا اور جب ہمارے مربی نے اپنے گلے کو آواز دی تو وہ پکارنے والے کی آواز کی طرف محبت سے لوٹ آئے ۔ وَكَانَ وِصَالُ الْحَقِّ فِي نِيَّاتِهِمْ وَخَطَرَاتِهِمْ فَلَاجْلِهِ مَدُّوا الْيَدَا اور ان کی نیتوں میں خدا کا وصال تھا اور ان کے خیالات میں بھی ۔ اسی لئے انہوں نے ہاتھ بڑھائے ۔ وَ رَأَوْا حَيَاتَ نُفُوسِهِمْ فِي مَوْتِهِمْ فَجَاءُوا بِمَيْدَانِ الْقِتَالِ تَجَلُّدَا اور انہوں نے اپنی جانوں کی زندگی اپنی موت میں پائی سو وہ میدانِ جنگ میں دلیری سے آ گئے ۔ وَ جَاشَتْ إِلَيْهِمْ مِنْ كُرُوبِ نُفُوسِهِمْ وَأَنْذَرَهُمْ قَوْمٌ شَقِيٌّ تَهَدُّدَا اور دکھوں سے ان کی جانیں اہلنے لگیں اور بد بخت قوم نے انہیں دھمکی دے کر ڈرایا۔ ۵۱ فَظَلُّوا يُنَادُونَ الْمَنَايَا بِصِدْقِهِمْ وَمَا كَانَ مِنْهُمْ مَّنْ أَبَى أَوْ تَرَدَّدًا ﴿۵﴾ وہ اپنے صدق کی وجہ سے موتوں کو پکارنے لگے اور ان میں سے کوئی نہیں تھا جس نے انکار یا تردد کیا ہو ۔ ۱۸۹