کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 279

کرامات الصادقین — Page 82

كرامات الصادقين ۸۲ اُردو ترجمہ وَلكِن ظَنَنْتَ ظُنُونَ سَوْءٍ بِعُجْلَةٍ كَغُولٍ هَوَى وَالْغُولُ لَا يَتَطَهَّرُ لیکن تو جلد بازی سے اور ہوائے نفس سے بدگمانی کرنے لگ گیا ایک بھوت کی طرح ۔ اور بھوت تو پاک نہیں ہوتا۔ هَلِ الْعِلْمُ شَيْءٌ غَيْرُ تَعْلِيمِ رَبِّنَا وَ أَيَّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ نَتَخَيَّرُ کیا وہ علم کوئی چیز ہے جسے ہمارے رب نے نہ سکھایا ہو اور کونسی بات ہم اس کے بعد اختیار کر سکتے ہیں ؟ كِتَابٌ كَرِيمٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ وَحَيَاتُه يُحْيِ الْقُلُوبَ وَيُزْهِرُ وہ کتاب کریم ہے اس کی آیات محکم ہیں اور اس کی زندگی دلوں کو زندہ اور روشن کرتی ہے۔ يَدُعُ الشَّقِيَّ وَلَا يَمَسُّ نِكَاتَهُ وَيُرْوِي التَّقِيَّ هُدًى فَيَنْمُو وَ يُثْمِرُ وہ بد بخت کو دھکے دیتی ہے اور وہ اسکے نکات کو نہیں چھو سکتا اور وہ پر ہیز گار کو ہدایت سے سیراب کرتی ہے سو وہ نشو و نما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ وَ مَتَّعَنِي مِنْ فَيْضِهِ لُطْفُ خَالِقِي وَ إِنِّي رَضِيعُ كِتَابِهِ وَ مُخَفَّرُ اور میرے رب کی مہربانی نے اپنے فیض سے مجھے بہرہ ور کیا ہے۔ میں اس کی کتاب کا شیر خوار ہوں اور اسکی حفاظت میں ہوں۔ كَرِيمٌ فَيُؤْتِي مَنْ يَشَاءُ عُلُومَهُ قَدِيرٌ فَكَيْفَ تُكَذِّبَنَّ وَتَهْكَرُ وہ کریم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنے علوم دیتا ہے وہ قدیر ہے۔ سوتو (اس بات کی ) کیسے تکذیب کرتا ہے اور کیسے (اس پر ) تعجب کرتا ہے۔ وَإِنِّي نَظَمُتُ قَصِيدَتِي مِنْ فَضْلِهِ لِتَعْلَمَ فَضْلَ اللَّهِ كَيْفَ يُخَيِّرُ اور میں نے خدا کے فضل سے اپنا قصیدہ منظوم کیا ہے تا کہ تو جان لے کہ اللہ کا فضل کس طرح برگزیدہ بنادیتا ہے۔ ۱۷۴