کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 279

کرامات الصادقین — Page 48

كرامات الصادقين ۴۸ اُردو ترجمہ أَلَا إِنَّهُ عَبْدٌ ضَعِيفٌ كَمِثْلِنَا فَلَا تَتَّبِعُ يَا صَاحِ قَوْمًا خُسِرُوا سن لے کہ وہ ہماری طرح ہی ایک عاجز بندہ ہے ۔ سواے دوست ! تو ان لوگوں کی پیروی نہ کر جو نقصان اٹھا چکے ہیں ۔ وَ وَاللَّهِ يَأْتِي وَقْتُ تَصْدِيقِ كَلِمَتِي وَ يُبْدِى لَكَ الرَّحْمَنُ مَا كُنتَ تُضْمِرُ اور خدا کی قسم ! میری باتوں کی تصدیق کا وقت آ جائے گا اور رحمٰن تجھ پر ظاہر کر دے گا جو تو دل میں چھپا رہا تھا ۔ فَلَا تَسْمَعَنُ مِّنْ بَعْدُ ذِنْبًا وَ عَقْرَبًا يَصُولُ بِوَتُبِ أَوْتَدِبُّ وَ تَابِرُ پس تو نہیں سنے گا اس کے بعد کسی بھیڑیے کے متعلق کہ وہ اچھل کر حملہ کرتا ہے اور بچھو کے متعلق جو رینگتا ہے اور ڈنگ مار دیتا ہے۔ مَقَامِي رَفِيعٌ فَوْقَ فِكْرِ مُفَكِّرٍ وَقَوْلِى عَمِيقٌ لَّا يَلِيْهِ الْمُصَعِرُ میرا مقام سوچنے والے کی سوچ سے بلند تر ہے اور میرا قول گہرا ہے اور تکبر سے منہ موڑ نے والا اس تک نہیں پہنچ سکتا۔ إِذَا قَلَّ عِلْمُ الْمَرْءِ قَلَّ اعْتِقَادُهُ وَمَا يَمُدَحَنُ حُسْنًا ضَرِيرٌ مُّعَدَّرُ جب انسان کا علم تھوڑا ہو تو اس کا اعتقاد بھی کمزور ہوتا ہے اور ایک انتہائی طور پر اندھا تو حُسن کی تعریف نہیں کر سکتا ۔ در پر پر معذور الا رُبَّ مَجْدٍ قَدْ يُرَى مِثْلَ ذِلَّةٍ إِذَا مَا تَعَالَى شَانُهُ الْمُتَسَبِّرُ آگاہ رہو کہ بہت سی عظمتیں ذلت کی طرح نظر آتی ہیں جبکہ ( در حقیقت ) ان کی چھپی ہوئی شان ( نگاہ سے ) بلند ہوتی ہے۔ أَلَمْ تَعْلَمَنْ أَنِّي جَرِيٌّ مُّبَارِزٌ وَإِنْ كُنتَ فِي شَكٍّ فَبَارِزُ فَنَحْضُرُ کیا تو نہیں جانتا کہ میں ایک بہادر جنگجو ہوں اور اگر تجھے شک ہو تو مقابلہ میں نکل تو ہم بھی آجائیں گے۔ ۱۴۰