کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 279

کرامات الصادقین — Page 258

كرامات الصادقين ۲۵۸ اردو ترجمہ إذ قد أُبيرت دولة الصلبان مِن وَقُعِ شهم حاذق الطعانِ ما ہر نشانہ لگانے والے بطل جلیل کے وار سے صلیبیوں کی حکومت تباہ ہو گئی ۔ في الحرب إذ يـعــدو بحد سنان مُحْيِ المَنونِ ومُوقِدُ النيران جب وہ ( بطل جلیل ) جنگ میں نیزہ کی آنی کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو وہ حشر نشر بپا کرنے والا اور آتش حرب بھڑ کانے والا ہوتا ہے ۔ كالليث صادَفَ رَعُلَةَ الضّبعان في يوم مخمصة على أسوان اُس شیر کی مانند جسے بھوک والے دن چٹان پر لگڑ بگڑ کے بچے مل گئے ہوں ۔ أسدٌ هِزَبُرٌ ثَابِتُ الجَنانِ لم يكترث بكثرة الفرسان مضبوط دل ز بر دست شیر کی طرح جسے شہسواروں کی کثرت کی کوئی پروانہیں ۔ بتل الشكوك بقاطع البرهان و دلائل قرتُ بها العينان آپ نے شکوک و شبہات کو برہان کی تیز تلوار سے اور ایسے دلائل سے جن سے آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں کاٹ کے رکھ دیا ہے ۔ حَبْرٌ أَمَدَّ موائد العرفان وأَسَحَّ أَبْحُرَها على الظمآن آپ وہ عالم اَجَل ہیں جنہوں نے عرفان کے دستر خوان بچھائے اور پیاسوں پر معرفت کے سمندر بہا دیئے ۔ ردع الخصوم بقدرة المنان يدعون ويلا نُكَّسَ الأذقان آپ نے خدائے منان کی قدرت کے طفیل دشمن کا منہ موڑ دیا ۔ وہ ( دشمن ) اوندھے منہ پڑے ہلاکت کو پکار رہے ہیں ۔ يا أيها المولى العظيم الشان هيهات عينى أن ترى لك ثان اے عظیم الشان آقا ! میری آنکھ سے یہ بعید ہے کہ تجھ سا کوئی اور دیکھے ۔ ۳۵۰