کرامات الصادقین — Page 246
كرامات الصادقين ۲۴۶ اُردو ترجمہ يقولون إن الدعوة والمناظرات وہ کہتے ہیں کہ تبلیغ اور مناظرہ اہل کمال خلاف ديدن أهل الكمال و اور اصحاب یقین کے طریق کے برخلاف أصحاب اليقين۔ وعلماؤنا إلا ہے اور ہمارے علماء کو ، إِلَّا مَا شَاءَ الله من شاء الله ما يعلمون ما يفعل اس بات سے کوئی سروکار نہیں تھا کہ دین بالدين وأهل الدين والمتكلمون اور اہل دین پر کیا بیت رہی ہے ۔ اور منتهى تدقيقاتهم مسألة إمكان متکلمین کی تحقیقات کا منتہی ( نعوذ باللہ ) كذب البارئ (نعوذ بالله) و باری تعالیٰ کے جھوٹ بول سکنے یا نہ بول امتناعه لا لتبكيت الكافرين ورد سکنے کا مسئلہ تھا نہ کہ کافروں کا منہ بند کرنا مكائد المعاندين۔ ومع هذه الشكوى اور معاندین کی سازشوں کا رد کرنا ۔ یہ فنشكر مساعي الشيخ الأجل شکوہ اپنی جگہ ہم شیخ اجل اپنے استاد کامل وأستاذى الأكمل رحمة الله رحمت اللہ ہندی مگی اور ڈاکٹر وزیر خان الهندى المكي والدكتور وزیر خان صاحب اللہ تعالیٰ ان دونوں پر رحم فرمائے رحمهما الله تعالى والسيد الإمام اور امام سیدابوالمنصور دہلوی اور پاکباز ذہین أبي المنصور الدهلوی والزکی فطین سید محمد علی کا نپوری اور دانش مند مصنف * الفطن السيد محمد على الكانفورى تنزيه القرآن اور ان جیسے دیگر کی مساعی کا والسيد اللبيب مصنف تنزیه شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اللہ ان پر سلامتی ج القرآن وأمثالهم سلمهم الله فشكر فرمائے ۔ اللہ ان کی مساعی کی قدردانی الله سعيهم وهو خير الشاكرين۔ فرمائے اور وہ بہترین قدردان ہے ۔ لكن جهادهم مع شعبة واحدة لیکن ان کا مخالفین اسلام سے جہاد صرف من مخالفي الإسلام ثم ما كان ایک پہلو سے تھا اور ان کے ساتھ آسمانی بالآيات السماوية والبشارات الإلهية۔ نشانات اور الہی بشارات نہ تھیں ۔ وكنت حريصا على رؤية میں تو ایک ایسے شخص کے دیدار کا حریص تھا تنزیہ القرآن کے مصنف مکرم مولوی محمد بشیر صاحب سہسوانی تھے۔ (ناشر) ۳۳۸