کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 279

کرامات الصادقین — Page 224

كرامات الصادقين ۲۲۴ اردو ترجمہ أنه هو وأنه مقصد ملامح اور وہی ان کی نگاہِ چشم کا مقصود اور ان کی عيونهم و مقصود مرامی نظروں کا مطلوب اور ان کے اعمال کا مدار لحظهم ومدار شؤونهم فليطلبوه ہے پس اگر وہ سچے طالب حق ہیں تو اسی ہستی إن كانوا طالبين۔ ومن هذا کو تلاش کریں ۔ اور اس مقام سے سورۃ المقام يظهر عظمةُ الفاتحة فاتحہ کی عظمت اور اس کا خدائے علام کی طرف وكـونــه مـن اللـه العلام فإنها سے ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ہر مرض کی مملوة من كل دواء وعلاج دوا اور اس کے علاج سے پُر ہے اور ہر بلا لكل داء ومنجى من كل بلاء سے نجات دیتی ہے ۔ جو ضعیفوں کو قوت بخشتی يقوى الضعفاء ويبشر الصلحاء ہے اور نیک لوگوں کو بشارت دیتی ہے اور خیر ويفتح أبواب الخير وسُدَدَہ کے باب و درکھولتی ہے اور ہر صاحب رشد کو ويعطى كل ذی رشد ر شده ہدایت دیتی ہے ۔ بجز ایسے شخص کے کہ جس پر إلا الذي أحاط عليه غباوته اس کی غباوت اور شقاوت نے گھیرا ڈال وشقاوته فصار من الهالكين۔ رکھا ہو۔ پس وہ ہلاک ہونے والوں میں وانظر إلى كمال ترتيب الفاتحة سے ہو گیا ۔ خدائے عز و جل کی طرف سے من الله ذي الجلال والعزة سورہ فاتحہ کی ترتیب کے کمال پر نگاہ كيف قدم ذكر اسم الله فی ڈال ! کہ عبارت میں کس طرح اللہ کے نام العبارة وجعله سرا مجملا کے ذکر کو مقدم کیا اور اسے چاروں صفات لتفاصيل الصفات الأربعة کی تفاصیل کے لئے مجمل راز بنایا اور وزين العبارة بكمال لطائف عبارت کو بلاغت کی کمال درجہ لطافتوں البلاغة ثم أردفه صفة سے مزین کیا ۔ اس کے بعد ربوبیت عامہ الربوبية العامة فإن الله کی صفت کو بیان کیا ۔ کیونکہ اللہ اہل معرفت كان كـكـنـــــز مخفى من أعین کی نگاہوں سے ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔ پس ۳۱۶