کرامات الصادقین — Page 222
كرامات الصادقين ۲۲۲ اردو ترجمہ وأما تخصيص ذكر الربوبية لیکن ان چاروں صفات ربوبیت، والرحمانية والمالكية في رحمانيت ، رحيمیت اور مالکیت کا ذکر الدنيا والآخرة فلأجل جن کا تعلق دنیا و آخرت سے ہے خاص طور أن هذه الصفات الأربعة پر اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ چاروں صفات أُمهات لجميع الصفات خدا کی باقی تمام مؤثر اور فیض رساں المؤثرة المفيضة ولا شك صفات کی اصل ہیں اور بلا شبہ یہ دُعا أنها محرّكات قوية لقلوب کرنے والوں کے دلوں میں زبر دست الداعيين۔ تحریک پیدا کرنے والی ہیں ۔ - ثم الإنجيل يذكر الله تعالى پھر انجیل خدا تعالیٰ کا ذکر اب نام سے کرتی باسم الأب والقرآن يذكره باسم ہے جبکہ قرآن اس کا ذکر رب کے نام سے کرتا الرب وبينهما بون بعيد ویعلمہ ہے اور ان دونوں (الفاظ ) میں بہت بڑا فرق من هو زكي وسعيد وإن لم يعلمه ہے جسے ہر ذہین اور سعادت مند سمجھتا ہے من كان من الجاهلين۔ فإن لفظ اگر چہ چه اسے نادان نہ سمجھیں کیونکہ اب الأب لفظ قد كثر استعماله فی (باپ) کا لفظ مخلوقات میں کثرت سے استعمال المخلوقين فنقله إلى الرب تعالى ہوتا ہے اور اُسے خدا تعالیٰ کے لئے استعمال کرنا فعل فيه رائحة من الإشراك ایک ایسا فعل ہے جس میں شرک کی بُو پائی جاتی وهو أقرب للإهلاك كما ہے اور انسان کو ہلاک کرنے کے زیادہ قریب لا يخفى على المتدبرين۔ ہے جیسا کہ تدبر کرنے والوں پر مخفی نہیں ۔ ثم اعلم أن شكر المحسن پھر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ محسن و منان کا المنان أمر معقول مسلم عند شکر بجالا نا تمام اہل عقل و عرفان کے نزدیک ذوى العقول والعرفان وإذا كان ایک معقول اور مسلم م امر امر ہے۔ پھر جب ایک المحسن مع إحسانه العام محسن اپنے عام احسان کے ساتھ اور اپنے ۳۱۴