کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 279

کرامات الصادقین — Page 220

كرامات الصادقين ۲۲۰ اردو ترجمہ إرادة كالمنعمين والمعطين کرنے والے اور فیاض لوگوں کی طرح ارادہ نہیں فكأنه يقول كيف لا تؤمنون پایا جاتا تو تردید میں ) گویا اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے برب البرية وتكفرون کہ تم کس لئے مخلوقات کے پروردگار پر ایمان نہیں بربوبيته الإرادية وهو لاتے اور اس کی بالا راده ربوبیت کا انکار کرتے الذي يُربّي العالمين ويغمر ہو۔ حالانکہ وہی تو تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے بـنـوالــه ويــحـفـظ السماوات اور وہ (سب کو ) اپنے احسانات سے ڈھانپتا اور والأرض بقدرته وجلاله اپنی قدرت اور جلال کیساتھ آسمانوں اور زمین کی ويعرف من أطاعه ومن حفاظت فرماتا ہے۔ جو لوگ اس کی اطاعت کرتے عصا فيغفر المعاصی ہیں ان کو بھی اور جو نافرمانی کرتے ہیں ان کو بھی أو يؤدب بــــالــعـصا ومن خوب جانتا ہے ۔ پس گناہگاروں کے گناہ معاف جاءه مطیعا فله جنتان کر دیتا ہے یا سزا سے ان کی اصلاح کرتا ہے لیکن وحقت به فرحتان فرحة جو شخص فرمانبردار بن کر اس کے پاس آئے ۔اس يصيبه من اسم الرحیم کے لئے دو جنتیں ہیں اور دو خوشیاں اس کا احاطہ کر و أخرى من الرحمن لیتی ہیں ایک خوشی تو اسے صفت رحیمیت سے ملتی القديم فيجزی جزاءً ہے اور دوسری خوشی رحمانیت کی قدیم صفت سے أوفى من الله الأعلى ويُدخل ملتی ہے۔ پس اسے اللہ بلند و برتر کی طرف سے في الفائزين۔ ولا شك پوری پوری جزا دی جاتی ہے۔ اور وہ بامراد لوگوں أن هذه الصفات تجعل میں داخل کر دیا جاتا ہے ۔ لا ریب یہ صفات الله مستحقا للعبادة الله تعالیٰ کو عبادت کا مستحق اور سعادت کے معطيا من عطايا السعادة وأما انعامات بخشنے والا قرار دیتی ہیں ۔ لیکن التقديس وحدہ کما ذکر فی صرف اس کی تقدیس کا بیان جیسا کہ انجیل الإنجيل فلا يُحرّك الروح میں مذکور ہے روح میں عبادت کے لئے حرکت ۳۱۲