کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 279

کرامات الصادقین — Page 20

كرامات الصادقين ۲۰ مواخذہ کریں کہ وہ ان علامات قرار دادہ انجیل کے رُو سے اپنا ایماندار ہونا ہمیں دکھلا دیں اُن سے یہ پوچھنا چاہئے کہ تم کس دین کی طرف بلاتے ہو۔ آیا اس انجیلی دین کی طرف جس کے قبول کر نیوالوں کی یہ یہ علامتیں لکھی ہیں کہ روح القدس اُن کو ملتی ہے اور ایسے ایسے خوارق وہ دکھاتے ہیں اگر وہی دین ہے تو بہت خوب وہ علامتیں دکھلاؤ۔ اور اول اپنے تئیں ایک ایماندار عیسائی ثابت کرو اور پھر اس روشن اور مدل ایمان کی طرف دوسروں کو بلا ؤ اور جبکہ اس ایمان کی علامتیں ہی موجود نہیں تو نجات جس کا ملنا اسی ایمان پر مبنی ہے اسی طرح باطل ہو گی جیسا کہ تمہارا ایمان باطل ہے۔ اور جھوٹے ایمان کا ثمرہ سچی نجات نہیں ہو سکتی بلکہ جھوٹی نجات ثمرہ ہوگی جو جہنم سے بچا نہیں سکتی۔ غرض کوئی عیسائی بحیثیت عیسائی ہونے کے بحث کرنے کا حق نہیں رکھتا جب تک انجیلی نشانیوں کے ساتھ اپنی تئیں سچا عیسائی ثابت نہ کرے۔ وَانِّي لَهُمُ ذَالِکَ۔ پھر ہم بقیہ آیات کریمہ کا ترجمہ کر کے لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن اور رسول ایک نور ہے جو تمہاری طرف آیا یہ کتاب ہر یک حقیقت کو بیان کرنیوالی ہے خدا اسکے ساتھ اُن لوگوں کو سلامتی کی راہ دکھلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی کی پیروی کرتے ہیں اور وہ اُن کو ظلمات سے نور کی طرف نکالتا ہے اور سیدھی راہ جو اُس تک پہنچتی ہے اُن کو دکھلاتا ہے۔ وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو اس ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے۔اے لوگو! قرآن ایک برہان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو ملی ہے اور ایک کھلا کھلانور ہے جو تمہاری ۱۵ طرف اُتارا گیا ہے۔ آج تمہارے لئے دین کامل کیا گیا اور تم پر سب نعمتیں پوری کی گئیں ۔ اور میری رضا مندی اسمیں محدود ہوگئی کہ تم دین اسلام پر قائم ہو جاؤ۔ خدا نے نہایت کامل اور پسندیدہ کلام تمہاری طرف اُتارا اس کتاب میں یہ خاصیت ہے کہ یہ کتاب متشابہ ہے یعنی اسکی تو اسکی تعلیمات نہ باہم اختلاف رکھتی ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت سے منافی ہیں بلکہ جو کمال انسان کے لئے اسکی فطرت اور اُس کے قومی کے لحاظ سے ضروری ہے اسی کمال کے مناسب حال اس کتاب کی تعلیم ہے اور یہ صفت تو ریت اور انجیل کی تعلیم میں نہیں پائی جاتی ۔ توریت میں حد سے زیادہ سختی اور انتقام پر زور ڈالا گیا ہے اور وہ سختی مطیع اور نافرمان اور دوست اور دشمن دونوں کے حق میں ایسے ۱۱۲