کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 279

کرامات الصادقین — Page 209

كرامات الصادقين ۲۰۹ اُردو ترجمہ ويتركهم فـي بيـدائهم تائهين میں حیران و پریشان چھوڑے رکھتا ہے۔ البتہ اللہ وإن حبوة الله قريب من تعالیٰ کے انعامات منکسر المزاج لوگوں کے بہت المنكسرين۔ وليس الداعی قریب ہیں۔ (لیکن) وہ شخص دعا کرنے والا نہیں الذي ينظر إلى أطراف ہے جو (خدا کے سوا) اِدھر اُدھر دیکھتا رہتا ہے۔ وأنحاء ويُختلب بكل برق ہر چمک اور روشنی سے دھوکا کھا جاتا ہے اور چاہتا وضياء ويريد أن يُترع كُمَّه ہے کہ وہ اپنا دامن بھر لے خواہ بتوں کے وسیلہ سے ولو بوسائل الأصنام ويعلو ہی ہو۔ اور بھیک حاصل کرنے کے شوق میں اونچی كل ربوة راغبا في حَبوة (دشوار گزار ) جگہ پر پہنچتا ہے۔ وہ اپنے مزعومہ ويبغى معشوق المرام ولو معشوق کو ڈھونڈتا ہے خواہ کمینوں اور بد کرداروں بتوسل اللئام والفاسقين بل کے توسل سے ہی ہو۔ لیکن سچا دعا گو وہ ہے جو الداعى الصادق هو الذی صرف اللہ تعالی کی طرف پوری طرح منقطع ہو يتبتل إلى الله تبتیلا و جاتا ہے اور اُس کے غیر سے کچھ نہیں مانگتا اور تبل لا يسأل غيره فتيلا ويجيء اختیار کرنے والوں اور فرماں برداروں کی طرح الله كالمنقطعين المستسلمین اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے۔ اُس کی دوڑ خدا کی ويكون إلى الله سیره و طرف ہی ہوتی ہے اور وہ اُس کے غیر کی پروا لا يعبأ بمن هو غيره ولو کان نہیں کرتا ۔ خواہ وہ بادشاہوں یا سلاطین میں سے من الملوك والسلاطین ہی ہو اور جو شخص خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور ( کی والذي يكب علی غیرہ دہلیز پر جھکتا ہے اور راہِ سلوک میں اللہ تعالیٰ کو ولا يقصد الحق في سيره مقصود نہیں بناتا وہ موحد دعا کرنے والوں فهو ليس من الداعين الموحدین میں سے نہیں بلکہ شیطانوں کے ساتھیوں کی طرح بل كـزامـلـة الشياطين فلا ينظر ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ اُس کے رنگینی کلام کی پروا الله إلى طلاوة كلماته وينظر نہیں کرتا بلکہ اُس کی نیتوں کی خباثتوں کو دیکھتا ہے ۳۰۱