کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 279

کرامات الصادقین — Page 199

كرامات الصادقين ۱۹۹ اُردو ترجمہ و الصديقين حق واجب غیر کی وراثت ایک لازمی اور نہ ختم ہونے والا حق مجذوذ ومفروض للاحقين ہے اور بعد میں آنے والے نیکو کار مومنوں کے من المؤمنين الصالحين إلى لئے قیامت تک اس ورثہ کا ملنا ضروری ہے۔ يوم الدين۔ وهم يرثون پس وہ نبیوں کے وارث بنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ الأنبياء ويجدون ما وجدوا کے وہ سب انعامات پاتے ہیں جو نبیوں نے 90 من إنعامات الله۔ وهذا هو الحق پائے اور یہی حق بات ہے۔ پس تو شک کرنے فلا تكن من الممترين۔ والوں میں ( شامل ) نہ ہو۔ وأما سر ذلك التوارث ولمية اس توارت کا راز اور مورث اور وارث بننے کا المورث والوارث فتنكشف من اصل سبب اس آیت سے منکشف ہوتا ہے جو توحید تلك الآية التي تُعلّم التوحيد سکھاتی اور اُس واحد ولا شریک پروردگار کی عظمت وتعظم الرب الوحيد فإن الله بیان کرتی ہے کیونکہ پوری مدد کرنے والے اور سب المعين وأرحم الراحمين إذا علم سے زیادہ رحم کرنے والے خدا نے جب تو حید کے دقائق التوحيد وبالغ في التلقين دقائق سکھائے اور اُن کی خوب تلقین کی اور فرمایا وقال إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ، تو اس نَسْتَعِينُ فأراد عند هذا تعلیم و تفہیم سے اُس نے یہ ارادہ فرمایا کہ خاتم التعليم والتفهيم أن يقطع النَّبِيِّين کی اُمت پر اپنے خاص فضل سے اور اپنی عروق الشرك كلّها فضلا خاص رحمت فرماتے ہوئے شرک کی تمام رگیں من لدنه ورحمةً منه على أُمّة كاٹ دے تا اس اُمت کو ان آفات سے نجات خاتم النبيين لينجي هذه الأمة دے جو پہلوں پر وارد ہوئی تھیں۔ پس اُس نے من آفات وَرَدَت على بطور اپنے کرم اور احسان کے ہمیں ایک دعا سکھائی لے (اے خدا) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں (الفاتحة: ۵) ۲۹۱