کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 279

کرامات الصادقین — Page 184

كرامات الصادقين ۱۸۴ اردو ترجمہ أن هذه الإشارة توجد کہ یہ اشارہ سورہ فاتحہ میں موجود ہے تو یادر ہے کہ في الفاتحة۔ فاعلم أن لفظ الحمد لله کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ الْحَمْدُ لِلَّهِ يدل عليه فإن الله تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم الحمد للہ کہو بلکہ الله تعالى ما قال قُلِ الحمدُ صرف الحمد لله“ فرمایا ہے۔ گویا اس نے لله بل قال الْحَمْدُ للهِ ہماری فطرت سے یہ (الفاظ ) کہلوائے ہیں اور فكأنه أنطق فطرتنا وأرانا جو چیز ہماری فطرت میں پوشیدہ ہے ۔ وہ اس ما كان مخفيًّا فى فطرتنا نے ہمیں دکھائی ہے اور یہ اس بات کی طرف وهذه إشارة إلى أن الإنسان اشارہ ہے کہ انسان فطرت اسلام پر تخلیق کیا گیا قد خُلق على فطرة الإسلام ہے اور اس کی فطرت میں یہ بات داخل کر دی وأُدخل في فطرته أن يحمد گئی ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے اور یہ یقین رکھے الله و يستيقن أنه رب العالمين كه وه رب العالمین اور رحمن اور رحیم و رحمن و رحیم و مالک یوم اور مالک یوم الدین ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر مدد الدين۔ وأنه يعين المستعين مانگنے والے کی مدد فرماتا ہے اور دعا کرنے ويهدى الداعين۔ فثبت والوں کو ہدایت دیتا ہے۔ پس یہاں سے یہ من ههنا أن العبد مجبول ثابت ہوا کہ بندہ فطرتاً اپنے رب کی معرفت على معرفة ربه وعبادته اور اس کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وقد أُشـــرب فــي قـلـبـه محبّته اس کے دل میں اس کی محبت گھر کر گئی ہے۔ فتظهر هذه الحالة بعد رفع پس یہ حالت پردوں کے اُٹھ جانے کے بعد الحجب وتجرى ذكر الله تعالی ہی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر زبان پر عـلـــى اللسان من غير اختیار بے اختیار اور بلا تکلف جاری ہو جاتا ہے اور وتكلّف وتنبت شجرة المعارف معارف کا درخت اُگتا اور پھل دینے لگتا ہے اور وتثمر وتؤتي أكله كل حين۔ ہر موسم میں اپنا تازہ بتازہ پھل دیتا رہتا ہے ۲۷۶