کرامات الصادقین — Page 16
۱۶ كرامات الصادقين ١٠﴾ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ أَيْتٍ بَيِّنَتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّورِ - يَأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءُ لِمَا فِي الصُّدُورِ كِتَبُ اَنْزَلْتُهُ إِلَيْكَ مُبْرَكَ لِيَدَّبَّرُوا اليهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الْأَلْبَابِ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْمًا تُذَا وَكُلَّ شَيْءٍ فَضَلْنَهُ تَفْصِيلًا - وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْتُهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ - وَإِنَّهُ لَكِتُبُ عَزِيزُلًا يَأْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ - جَعَلْتُهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا " - تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ " - رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا " - بِلِسَانٍ عَرَبِي مُّبِينٍ - فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ " - قُلْ لَبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظهِيرًا ها خلاصہ ترجمہ ان تمام آیات کا یہ ہے کہ قرآن حکیم ہے یعنی حکمت سے بھرا ہوا ہے۔ راہ راست کی تمام منازل طے کر دیتا ہے اور ذکر للعالمین ہے یعنی ہر ایک قسم کی فطرت کو اُسکے کمالات مطلوبہ یاد دلاتا ہے اور ہر یک رتبہ کا آدمی اُس سے فائدہ اُٹھاتا ہے جیسے ایک عامی ویسا ہی ایک فلسفی ۔ یہ اُس شخص کیلئے اُترا ہے جو انسانی استقامت کو اپنے اندر حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی انسانی درخت کی جس قدر شاخیں ہیں یہ کلام اُن سب شاخوں کا پرورش کرنیوالا اور حد اعتدال پر لانے والا ہے۔ اور انسانی قومی کے ہریک پہلو پر اپنی تربیت کا اثر ڈالتا ہے۔ کوئی صداقت اس سے باہر نہیں۔ اسکی تعلیمیں بصیرت بخشتی ہیں اور ایمان لانیوالوں کو وہ راہ دکھاتی ہیں جس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور رحمانیت اور رحیمیت الہی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے۔جس سے وہ ایمان سے الرعد : ١٨ النحل : ۳۶۵ الحديد : ۱۰ ۴ یونس : ۵۵۸، ص: ۳۰ ۶ مریم: ۹۸ کے بنی اسرائیل: ۱۳ ۸ بنی اسرائیل: ١٠٦ ٩ حم السجدة : ۴۲ ۴۳ ١٠ الشوری: ۵۳ الی النحل : ۱۲۹۰ الشورى: ۱۳۵۳ الشعراء: ۱۴۹۶ البينة : ۱۵۴ بنی اسرائیل : ۸۹ ۱۰۸