کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 279

کرامات الصادقین — Page 171

كرامات الصادقين اا اردو ترجمہ واختار عز وجل لفظ المتكلّم میں خدائے عزوجل نے متكلّم مع الغير مع الغير إشارة إلى أن ( جمع متکلم) کا صیغہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار فرمایا ہے کہ یہ دعا تمام بھائیوں کے الدعاء لجميع الإخوان لئے ہے نہ صرف دعا کرنے والے کی اپنی ذات کے لا لنفس الداعي وحث فيه على مسالمة المسلمين لئے اور اس میں اللہ نے مسلمانوں کو باہمی مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ کہ دعا واتحادهم و و دادهم و علی کرنے والا اپنے آپ کو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے أن يعنــو الـداعـي نفسه لنصح لئے اسی طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی أخيــه كـمـا يـعـنـو لنصح ذاتـه ذات کی خیر خواہی کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی) ويهتم ويقلق لحاجاته ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا ہی اہتمام كما يهتم ويقلق لنفسه و کرے اور بے چین ہو جیسے اپنے لئے اہتمام کرتا لا يفرق بينه وبين أخيه اور بے چین ہوتا ہے۔اور وہ اپنے اور اپنے بھائی ويكون له بكل القلب من کے درمیان کوئی فرق نہ کرے۔ اور پورے دل سے الناصحين فكأنه تعالی اس کا خیر خواہ بن جائے گویا اللہ تعالی تاکیدی حکم ۸۰﴾ يوصى ويقول يا عبادِ تَهادُوا دیتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو! بھائیوں بالدعاء تهادى الإخوان اور محبوں کے (ایک دوسرے کو تحائف دینے کی طرح دعا کا تحفہ دیا کرو اور اپنی دعاؤں کا دائرہ وسیع والمحبين۔ وتناثثوا دعواتكم کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو یعنی اپنے وتبالشوا نياتكم وكونوا في نیک ارادوں میں (اپنے بھائیوں کے لئے المحبة كالإخوان والآباء بھی گنجائش پیدا کرو اور باہم محبت کرنے میں والبنين۔ بھائیوں ، باپوں اور بیٹوں کی طرح بن جاؤ۔ ۲۶۳