کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 279

کرامات الصادقین — Page 156

كرامات الصادقين ۱۵۶ اُردو ترجمہ ومظهرًا تامًا للمالكية وهو سے پکارتے ہیں اور وہ فیوض میں سب سے بڑا، أكبر الفيوض وأعلاها وأرفعها سب سے اعلیٰ ، سب سے بلند ، جامع ، سب سے وأتمها وأكملها ومنتهاها زیاده مکمل اور فیوض کا منتہی ہے۔ اور تمام جہانوں وثمرة أشجار العالمين و کے درختوں کا پھل بھی ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف لا يظهر إلا بعد هدم عمارات سے اس فیضان کا ظہور کامل اس حقیر اور صغیر عالم هذا العالم الحقير الصغیر کی عمارتوں کے مسمار ہونے ، اس کے کھنڈروں ودروس أطلاله و آثاره و اور نشانات کے مٹ جانے، اس کے رنگ و شحوب سحنته ونضوب روپ کے متغیر ہو جانے اور اس کے رخساروں کی ماء وجنته وأفول نجمه آب و تاب زائل ہو جانے اور سب غروب كالمغربين۔ وهو عالم ہونے والوں کی طرح اس کے ستارہ کے غروب لطيف دقت أسرارہ و کثرت ہو جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اور مالکیت ایک أنـــواره يحار فيها فهم لطيف عالم ہے۔ جس کے اسرار نہایت دقیق ہیں المتفكرين۔ وإن قلت لم قال اور اس کے انوار بہت زیادہ ہیں۔ اس میں غور وفکر الله تعالى في هذا المقام کرنے والوں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اور اگر مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ وما قال تم پوچھو کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ملِكِ يَوْمِ عادل يوم الدين۔ فاعلم الدِّينِ کیوں کہا اور عَادِلِ يَوْمِ الدِّينِ أن السر في ذلك أن العدل ( کیوں ) نہیں کہا تو واضح ہو کہ اس میں بھید یہ ہے لا يتحقق إلا بعد تحقق کہ عدل کا تصور اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب الحقوق وليس لأحد من تک حقوق کو تسلیم نہ کر لیا جائے اور جہانوں کے حق على الله رب العالمین پروردگار خدا پر تو کسی کا کوئی حق نہیں اور آخرت کی ونجاة الآخرة موهبة من نجات خدا تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کے لئے الله تعالىی للذین آمنوا به محض ایک عطیہ ہے جو اس پر ایمان لائے اور ۲۴۸