کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 279

کرامات الصادقین — Page 126

اُردو ترجمہ ۱۲۶ كرامات الصادقين فَقُمْتُ فَعَادَانِي عِدَايَ وَ مَعْشَرِى فَلِيُّ مِنْ جَمِيعِ النَّاسِ لَعْنٌ مُّرَكَّبُ سو میں ( جواب کے لئے ) اٹھا تو دشمنی کرنے لگے مجھ سے میرے دشمن بھی اور میرا خاندان بھی ۔ پس مجھے ایسے تمام لوگوں کی طرف سے اکٹھی لعنت پہنچی ۔ وَ لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَضْرَةُ الْوِتْرِ مَلْجَاً وَ مِنْ بَابِ خَلَّاقِ الْوَرَى أَيْنَ اَذْهَبُ اور خدائے واحد کی ذات کے سوا کوئی جائے پناہ نہ رہی اور مخلوق کے پیدا کرنے والے کے دروازے سے میں جا بھی کہاں سکتا ہوں ۔ فَإِنَّ مَلَاذِى مُسْتَعَانٌ يُحِبُّنِي وَيَسْقِينِ مِنْ كَأْسِ الْوِصَالِ فَأَشْرَبُ سو یقیناً میری پناہ تو وہ وجود ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے ( اور ) وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور مجھے وصال کا پیالہ پلاتا ہے۔ سو میں پیتا ہوں ۔ غَيُورٌ فَيَأْخُذُ رَأْسَ خَصْمِي إِذَا اعْتَدَى غَفُورٌ فَيَغْفِرُ زَلَّتِي حِينَ أُذُنِبُ وہ غیرت مند ہے وہ میرے دیسم ے دشمن کو سر سے پکڑ لیتا ہے جب وہ حد سے بڑھتا ہے وہ بخشنہار ہے وہ میری لغزش کو ڈھانپ دیتا ہے جب میں قصور کرتا ہوں ۔ وَ إِنِّي بَرِى مِنْ رَيَاحِينَ غَيْرِهِ وَعَذَابُ شَوْلٍ مِّنْهُ عَذَبٌ وَ طَيِّبُ میں اس کے غیر کی طرف سے آنے والی ) خوشبوؤں سے بھی بیزار ہوں اور اسکی طرف سے کانٹے کی تکلیف بھی ( میرے نزدیک ) شیریں اور عمدہ ہے۔ يُحِبُّ التَّذَلَّلَ وَالتَّوَاضُعَ رَبُّنَا وَمَنْ يَنْزِلَنُ عَنْ فَرْسِ كِبْرٍ يَّرْكَبُ ہمارا رب تو عاجزی اور انکساری کو پسند کرتا ہے ۔ جو تکبر کے گھوڑے سے نیچے اتر آئے وہی شاہ سوار بن جاتا ہے ۔ وَلِلصَّابِرِينَ يُوَسِعُ اللَّهُ رَحْمَهُ وَيَفْتَحُ أَبْوَابَ الْجَدَا وَيُقَرِّبُ اور صبر کرنے والوں کے لئے خدا اپنے رحم کو وسیع کرتا ہے اور عطا کے دروازے کھول دیتا اور قرب بخشا ہے ۔ ۲۱۸ ۶۲