کلام محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 302

کلام محمود — Page 212

۱۴۸ عقلی کو <mark>بلا</mark>یا ہے تو نے تو امتی ہے ہشیار ہیں یہ تیری ساری سانی بے کار ہے گر گرد انہیں اس پیار کے پرپر جانا کچھ شکل نہیں کچھ دشوار نہیں اس طرف جو راہیں جاتی ہیں کہ ہرگز نا ہموار نہیں میں اس کا ہاتھ پکڑ کرنا خلا سے اونچا اڑتا ہوں پر میرے دشمن کا کوئی دربار نہیں سر کارنہیں دہ خاک سے پیدا کرتا ہے پردے زندہ کرتا ہے جو اس کی راہ میں کرتا ہے وہ زندہ ہے مردار نہیں تم انسانوں کے پہلے ہوئیں اس کے رکا ریزہ ہوں میں علم ہوں میں فاضل ہوں پر سر پر سے اتار نہیں جادو ہے میری نظروں میں تاثیر ہے میری باتوں میں میں سب دنیا کا فاتح ہوں ہاتھوں میں مگر تلوار نہیں میں تیز قدم ہوں کاموں میں بجلی ہے برمی رفتار نہیں میں مظلوموں کی بھاری ہوں مرہم ہے مری گفتار نہیں وں سد کرشاہ کوئی ہی ہوں یں ان سرو کر یوں بیلوں سرکار مری ہے دین میں یہ لوگ میری سرکار نہیں تو اس کے پیارے ہاتھوں کو اپنی گردن کا طوق بنا کیا تو نے گلے میں ڈالا ہے ڈوالنسار ہے یہ کرتا نہیں اسلام یہ آفت آئی ہے لیکن تو نافل بیٹھا ہے اٹھو دشت پر یہ ثابت کر تو زندہ ہے مردار نہیں جن معنوں میں دیکہتا ہے کتا بھی ہے جتبار بھی ہے جن معنوں میں تم کہتے ہو تمہار نہیں جب انہیں دوزخ میں جلنا سخت برا پر یہ بھی کوئی بات نہ منفی سو عیب کا اس میں عیب سے یہ گفتار نہیں دیدار نہیں کچھ اس کی شش بی ایس سے دل ہاتھ سے نکل جاتا ہے ورنہ میں اپنی جان سے کچھ ایسا بھی تو بیزار نہیں اخبار الفضل جلد ۱۳۰۵ پریل ۹۵ - لاہور پاکستان -