کلام محمود مع فرہنگ — Page 70
پڑے بلا جس کے سر پہ آ<mark>کر</mark> اُسے وہی خوب جانتا ہے تماشا کیا دیکھتے ہو صاحب ہمارے دل کو دکھا دکھا <mark>کر</mark> کبھی جو تعریف کیجئے تو وہ کہتے ہیں یوں بگڑ بگڑ <mark>کر</mark> مزاج میرا پگ<mark>اڑ</mark>تے ہیں بنا بنا <mark>کر</mark> بت بنا<mark>کر</mark> رہا الگ وہ ہمارا یوسف نہ اس کا دامن بھی چھو سکے ہم یونہی بت میں گنوائیں آنکھیں ہیں اشک خونیں بہا بہا <mark>کر</mark> جو کوئی ہے بن بلائے آیا تو اس کو تم کیوں نکالتے ہو ہیں ایسے لاکھوں کہ بزم میں ہو انھیں بٹھاتے بلا بلا <mark>کر</mark> ہیں چاندنی راتیں لاکھوں گزریں کھلی نہ دل کی گی کبھی بھی وہ عہد جو مجھ سے <mark>کر</mark> چکا ہے کبھی تو اے بے وفا ہو فا<mark>کر</mark> جدائی ہم میں ہے کس نے ڈالی خیر تمھیں اسکا کچھ پتا ہے؟ وہ کون تھا جو کہ <mark>لے</mark> گیا دل ہے مجھ سے آنکھیں ملا ملا <mark>کر</mark> فراق جاناں میں ساتھ چھوڑا ہر ایک چھوٹے بڑے نے میرا تھی دل پہ اُمید سو اُسے بھی وہ <mark>لے</mark> گیا ہے لبھا بٹھا <mark>کر</mark> 70